نیتن یاہو کی گرفتاری روکنے کیلیے برطانیہ نے’ آئی سی سی‘ کی فنڈنگ بند کرنے کی دھمکی دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
’آئی سی سی‘ پراسیکیوٹر کے انکشاف کے مطابق برطانوی حکومت نے عدالت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھا گیا تو عدالت کی فنڈنگ بند کی جا سکتی ہے
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی فوجداری عدالت ’آئی سی سی‘ کے پراسیکیوٹر نے انکشاف کیا ہے کہ برطانوی حکومت نے عدالت کو خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے منصوبے کو آگے بڑھا گیا تو عدالت کی فنڈنگ بند کی جا سکتی ہے اور روم اسٹیٹوٹ سے علیحدگی اختیار کی جا سکتی ہے۔
یہ دعویٰ عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے عدالت میں جمع کرائی گئی ایک یادداشت میں کیا جس میں انہوں نے بنجمن نیتن یاھو کے خلاف قانونی کارروائی کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔
برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق کریم خان نے اس سرکاری شخصیت کا نام ظاہر نہیں کیا جس نے یہ دھمکی دی تھی تاہم انہوں نے بتایا کہ 23 اپریل سنہ 2024ء کو ہونے والا رابطہ ایک برطانوی عہدیدار کے ساتھ ہوا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امکان ظاہر کیا گیا کہ یہ رابطہ اس وقت کے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے تھا۔
کریم خان کے مطابق برطانوی عہدیدار کا مؤقف تھا کہ بنجمن نیتن یاھو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآف گیلنٹ کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنا غیر متناسب اقدام ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اپریل سنہ 2024ء میں انہیں ایک امریکی عہدیدار کی جانب سے انتباہ ملا کہ وارنٹس گرفتاری کے اجرا کے سنگین اور تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ تاہم تاخیر کے مطالبات کے باوجود انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے عدالت سے تعاون یا طرزعمل میں تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔
کریم خان نے مزید بتایا کہ یکم مئی سنہ 2024ء کو ہونے والے ایک اور رابطے میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے خبردار کیا کہ وارنٹس گرفتاری کی کوشش کا مطلب یہ ہوگا کہ حماس اسرائیلی یرغمالیوں کو قتل کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2 مئی سنہ 2024ء کو پہلی بار انہیں اپنے خلاف جنسی بدسلوکی سے متعلق الزامات کے وجود کا علم ہوا۔ ان کے مطابق 6 مئی سنہ 2024ء کو ایک تیسرے فریق نے بتایا کہ کسی شخص نے مبینہ متاثرہ خاتون کی اجازت کے بغیر عدالت کے داخلی نگرانی کے ادارے میں ان کے خلاف شکایت درج کرا دی ہے۔
کریم خان نے بتایا کہ جب مبینہ متاثرہ خاتون نے تحقیقات آگے بڑھانے سے انکار کیا تو یہ فائل بند کر دی گئی تاہم اکتوبر میں ایک نامعلوم اکاؤنٹ نے ایکس پلیٹ فارم پر دوبارہ ان الزامات کو زندہ کر دیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس یادداشت کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ انہوں نے پورے عرصے میں مکمل غیر جانبداری کے ساتھ کام کیا اور کسی ذاتی مفاد کے حصول کی کوشش نہیں کی۔ ان کے مطابق وارنٹس گرفتاری جاری کرنے کا منصوبہ ان کے خلاف الزامات سامنے آنے سے پہلے ہی تیار ہو چکا تھا۔
کریم خان نے اس بات پر زور دیا کہ منتخب میڈیا رپورٹس پر مبنی قیاس آرائیوں کے ذریعے ان کی معزولی کے مطالبے کے لیے کوئی ٹھوس جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی تیاری نہایت باریک بینی اور تفصیل سے کی گئی۔
یادداشت کے مطابق کریم خان نے اسرائیل کی جانب سے وارنٹس گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست پر 22 صفحات پر مشتمل ایک جامع اور سخت جواب جمع کرانے پر اصرار کیا۔ انہوں نے ابتدائی مسودہ دیکھنے کے بعد اسے نسبتاً نرم قرار دیا تھا۔
کریم خان نے بتایا کہ انہوں نے بین الاقوامی قانون کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ آیا عالمی فوجداری عدالت کو دائرہ اختیار حاصل ہے اور آیا بنجمن نیتن یاھو یوآف گالانٹ اور حماس کے تین عہدیداروں کے خلاف مقدمات دائر کیے جانے چاہئیں یا نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وارنٹس گرفتاری گرفتاری جاری نے بتایا کہ سنہ 2024ء کو کی جانب سے کے مطابق انہوں نے کے خلاف سکتی ہے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔