عدالت عظمیٰ: متنازع ٹوئٹ کیس میں ایمان مزاری کیخلاف ٹرائل روکنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-08-29
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عدالت عظمیٰ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف ٹرائل روکنے کا حکم دے دیا۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایمان مزاری کی ٹرائل رکوانے کی درخواست پر سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔ عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے تک ٹرائل روکا جائے اور اسلام آباد ہائی کورٹ تمام فریقین کو سن کر فیصلہ کرے۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ توقع کی جاتی ہے کہ ہائی کورٹ دونوں فریقین کو مکمل سن کر جلد فیصلہ کرے گی۔دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ہم آرڈر لکھوا رہے ہیں آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے کہا کہ اعتراض تو درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اٹھایا ہے لیکن چلیں ٹھیک ہے۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میرے موکلان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، 4 گواہان پر جرح ملزمان کی کمرہ عدالت میں موجودگی کے بغیر کی گئی۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ آرڈر شیٹ دکھائیں جہاں سے ثابت ہو جرح ملزمان کی غیر موجودگی میں ہوئی۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم نے کمرہ عدالت میں احتجاج کیا۔جسٹس صلاح الدین پہنور نے ایمان مزاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مطلب آپ کہہ رہے ہیں آپ کمرہ عدالت میں تھے لیکن احتجاجاً آپ کمرہ عدالت چھوڑ کر چلے گئے۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جی بالکل ایسا ہی ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ آپ نے احتجاج کے طور پر کورٹ روم چھوڑا۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ جسٹس ہاشم کاکڑ کا اپنا فیصلہ ہے کہ غیر موجودگی میں شہادتیں نہیں ہو سکتیں۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ملزم کی قانونی ٹیم کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے، بغیر شفاف ٹرائل کسی کو سزا نہ دے سکتے ہیں نہ دینی چاہیے، جج کو بھی دباؤ سے آزاد ہوکر دونوں فریقین کو مکمل موقع دینا چاہیے، دونوں ملزمان خود وکیل ہیں وہ خود بھی جرح کرسکتے ہیں۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ نہ جج کی بے توقیری ہونی چاہیے اور نہ ہی ہائی کورٹ کی بے توقیری ہونی چاہیے، اگر ٹرائل کورٹ نے فیصلہ کر دیا تو ہائیکورٹ میں ریویجن غیر مؤثر ہو جائے گی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے کہا کہ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض ہے۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایمان مزاری کو پھانسی دینے سے نہ آپ کو کچھ ملے گا اور نہ ہی آسمان گرے گا، شفاف ٹرائل کی آئین ضمانت دیتا ہے۔عدالت نے فیصلہ دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے جاری کیا، عدالتی کارروائی کے دوران ناروے کے سفیر بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے۔ علاوہ ازیں دفترخارجہ نے ناروے کے سفیر کی عدالت عظمیٰ میں ایمان مزاری کیس کی سماعت کے دوران موجودگی کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے سخت اقدام کیا اور ڈیمارش جاری کردیا ہے۔دفترخارجہ کے مطابق ناروے کے سفیر کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر سخت اقدام کیا گیا اور ڈیمارش جاری کردیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ ایک آزاد، خودمختار ، اور قانون پر عمل درآمد کرنے والی ہارڈ اسٹیٹ کیا ہوتی ہے اور سخت اور واشگاف الفاظ میں ناروے کے سفیر کو پاکستان کے اندونی معاملات میں مداخلت پر وزارت خارجہ نے سخت ترین الفاظ میں ڈیمارش جاری کر دیا۔دفترخارجہ نے کہا کہ11 نومبر 2025 کو ناروے کے سفیر کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں ایمان مزاری کیس کی سماعت میں شرکت نہ صرف سفارتی حد سے تجاوز تھی بلکہ پاکستان کے اندرونی عدالتی معاملات میں براہ راست مداخلت بھی تھی۔مزید کہا گیا کہ یہ اقدام ویانا کنونشن 1961 کے آرٹیکل 41 کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو سفارت کاروں کو میزبان ملک کے قوانین کا احترام کرنے اور اس کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا پابند کرتا ہے۔اس حوالے سے کہا گیا کہ کسی بھی ملک کا سفیر اس نوعیت کے حساس اور زیر سماعت مقدمے میں موجود ہو کر عدالتی عمل کو متاثر کرنے یا اس پر اثرانداز ہونے کا تاثر دے تو یہ سفارتی ذمے داریوں اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوتی ہے۔دفترخارجہ کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، شواہد یہ بتاتے ہیں کہ ناروے کی مختلف این جی اوز خصوصاً وہ تنظیمیں جو انسانی حقوق کے نام پر سرگرم ہیں پاکستان میں ایسے عناصر کی حمایت اور انہیں پلیٹ فارم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سپورٹ بھی کرتی ہیں جو پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ انتہائی غیر ذمے دارانہ طرز عمل کے بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ناروے کے سفیر کو ڈیمارش جاری کیا اور دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔دفترخارجہ نے کہا کہ یہ ڈیمارش اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے اور عالمی سفارتی اصولوں کے مطابق اپنی خودمختاری کا تحفظ کرنا بخوبی جانتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصل صدیقی نے کہا کہ اندرونی معاملات میں جسٹس ہاشم کاکڑ نے ایمان مزاری کی کمرہ عدالت میں ناروے کے سفیر ڈیمارش جاری عدالت عظمی کہ پاکستان پاکستان کے کے اندرونی کہا گیا کہ ہائی کورٹ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔