جنرل باجوہ نے ٹیک اوور کی دھمکی دی، فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے، خواجہ آصف کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2022 میں آرمی چیف کی تعیناتی کے وقت ان کی جماعت میں کوئی بھی جنرل عاصم منیر کو ذاتی طور پر نہیں جانتا تھا۔ حکومت میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے فیصلہ سازی کر رہی تھی۔
نجی ٹیلی ویژن چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے دعویٰ کیا کہ فوج کے نئے سربراہ کی تعیناتی کے دوران اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ نے 8 سے 9 روز تک مزاحمت کی اور یہاں تک دھمکی دی کہ اگر انہیں توسیع نہ دی گئی تو وہ ’ٹیک اوور‘ کر لیں گے۔
ان کے مطابق اس دوران جنرل باجوہ کبھی لالچ دیتے رہے اور کبھی دباؤ ڈالتے رہے۔
یہ بھی پڑھیے ’قوم برسوں ان کے بوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی‘، خواجہ آصف کا سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید پر ردعمل
خواجہ آصف نے مزید دعویٰ کیا کہ جنرل (ریٹائرڈ) باجوہ کی پہلی ترجیح یہ تھی کہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا جائے۔
یہ بیانات ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کو فوجی عدالت نے کورٹ مارشل کی کارروائی میں 4 الزامات ثابت ہونے پر 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کے خلاف سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، حکومتی وسائل کے غلط استعمال اور شہریوں کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات پر کارروائی کی گئی۔
فیض حمید کے وکیل میاں علی اشفاق نے غیرملکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ انہیں فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی ہدایات موصول ہو چکی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ فیصلے کی کاپی اور متعلقہ ریکارڈ کے لیے ملٹری کورٹ میں درخواست جمع کرائیں گے، جبکہ قانون کے مطابق 40 روز کے اندر اندر اپیل کورٹ میں اپیل دائر کرنا ضروری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خواجہ آصف فیض حمید آرمی چیف
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔