تہران اور بیجنگ کے تعلقات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے، چینی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
زونگ بی وو نے کہا کہ تعلقات کی درست سمت کو برقرار رکھنا اور باہمی سیاسی اعتماد کو مضبوط کرنا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، موجودہ عالمی نظام میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیوں کے تناظر میں چین اور ایران کے تعلقات کی قدر و قیمت مزید واضح ہو گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران میں چین کے سفیر نے ایران چین تھنک ٹینکس کے تیسرے فورم کی افتتاحی تقریب میں کہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں، جہاں یکطرفہ طرزِ عمل میں اضافہ ہو رہا ہے، چین اور ایران کے تعلقات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو چکی ہے۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق عوامی جمہوریہ چین کے ایران میں سفیر زونگ پی وو نے ایران چین تھنک ٹینکس کے تیسرے اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں تیسری بار سیاسی و بین الاقوامی اسٹڈیز کے سنٹر کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ فورم جغرافیائی طور پر بھی چینی سفارت خانے کے قریب ہے اور مکالمے و تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس اجلاس کا انعقاد چین اور ایران دونوں کے لیے نہایت اہم ہے۔
زونگ پی وو نے کہا کہ ایران اور چین نے اعلیٰ سطح پر، خصوصاً بیجنگ میں دونوں ممالک کے صدور کی ملاقات کے دوران، اہم مفاہمتوں تک رسائی حاصل کی ہے، سنہ 2026 ایران اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی پچپن ویں سالگرہ ہوگی، ان تعلقات کے آغاز سے اب تک دونوں ممالک نے مثبت پیش رفت اور باہمی فوائد حاصل کیے ہیں اور ان تعلقات نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ چینی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ تعلقات کی درست سمت کو برقرار رکھنا اور باہمی سیاسی اعتماد کو مضبوط کرنا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، موجودہ عالمی نظام میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیوں کے تناظر میں چین اور ایران کے تعلقات کی قدر و قیمت مزید واضح ہو گئی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اساتذہ اور محققین دونوں قوموں کے مفادات کو درست طور پر سمجھیں گے، دونوں معاشروں کے بارے میں گہری آگاہی پیدا کرنے میں مدد دیں گے اور دوطرفہ تعلقات کے استحکام میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔ زونگ پی وو نے مزید کہا کہ چین کی مرکزی کمیٹی کے دوسرے اجلاس میں تجارتی شعبے میں جدت پر زور دیا گیا ہے اور ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ اقدام کو مزید اعلیٰ معیار کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے تہران کی سڑکوں پر برقی بسوں کی موجودگی کو سبز ترقی کے میدان میں ایران اور چین کے تعاون کی ایک واضح مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق، محققین مختلف شعبوں میں تعاون کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کثیرالجہتی اقدامات اور عالمی جنوب کے ممالک کے درمیان تعاون کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ اقدام عالمی جنوب کے تقریباً تین چوتھائی ممالک اور سو سے زائد ریاستوں پر مشتمل ہے، اور بہت سے ممالک اس فریم ورک میں تعاون کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران، عالمی جنوب کے ایک اہم ملک کی حیثیت سے، اس میں فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح شنگھائی تعاون تنظیم کے دائرے میں تعاون کو مضبوط بنانا بھی نہایت اہم ہے۔ چینی سفیر نے زور دے کر کہا کہ چین اور ایران دونوں وسیع صلاحیتوں اور مشترکہ مفادات کے حامل ہیں اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان نمایاں تبادلے دیکھنے میں آئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چین اور ایران کے تعلقات کی نے کہا کہ انہوں نے چین کے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔