افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خدشات پر ہمسایہ ممالک کی اہم کانفرنس کل تہران میں
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
افغان سرزمین سے لاحق دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظر میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی ایک اہم کانفرنس کل ایران کے دارالحکومت تہران میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور مشترکہ لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق افغانستان سے متعلق خصوصی نمائندگان اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔ پاکستان کی جانب سے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق، کابل میں تعینات پاکستانی سفیر عبید الرحمن نظامانی اور تہران میں پاکستانی سفیر مدثر ٹیپو اجلاس میں شریک ہوں گے۔
اجلاس میں روس کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف، چین کے خصوصی نمائندے یو شیاوونگ کے علاوہ ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان کے صدور کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کانفرنس سے خطاب کریں گے، جبکہ اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا، جس میں خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور مستقبل کی حکمت عملی پر اتفاق رائے شامل ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔