ناصر باغ تاریخی اثاثہ، تحفظات دور نہ ہوئے تو پراجیکٹ روک دینگے: ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
لاہور (خبر نگار) ہائیکورٹ میں سموگ تدارک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد کریم نے حکم دیا کہ تمام شوگر ملیںتین ماہ کے اندر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائیں، ورنہ ایسی ملوں کو بند کردیا جائے۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر تحفظات دور نہ کئے گئے تو ناصر باغ پراجیکٹ روک دیا جائے گا۔ عدالت نے لاہور کے804 پارکس کے حوالے سے بھی واضح پالیسی تشکیل دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ انویسٹرز سے سرمایہ لے کر پارکس کی خوبصورتی پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اورنج لائن بن چکی ہے، روڈا بننے جا رہا ہے، پتہ نہیں کیا ہوگا، میرے فیصلے موجود ہیں، ڈویلپمنٹ ہوسکتی ہے مگر گرین ڈویلپمنٹ بھی کوئی چیز ہے، ڈی جی ایل ڈی اے ناصر باغ پراجیکٹ کے بارے میں ماہر تعمیرات کو مطمئن کریں، پی ایچ اے درختوں کی پلانٹیشن کرے، لاہور میں جو پارک ٹھیک حالت میں نہیں، ان کو بحال کیا جائے، تجاوزات کو ختم کریں، پارکس کو بحال کریں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ناصرباغ، گورنمنٹ کالج اور اسی نوعیت کے تاریخی مقامات شہر کاچہرہ ہیں، ایل ڈی اے کو چاہئے کہ ان تاریخی اثاثوں کو خراب کرنے سے ہرممکن اجتناب کرے۔ اگر منصوبہ بندی مناسب نہ ہوئی تو عدالت کو اسے روکنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ناصر باغ منصوبے کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد سوسائٹی کے نمایاں اور باشعور طبقات سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے ان کے مؤقف کو سنجیدگی سے سننا ضروری ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر کارکردگی رپورٹ طلب کرلی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ
کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔