لاہور (خبر نگار)  ہائیکورٹ میں  سموگ تدارک کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد کریم نے حکم دیا  کہ تمام شوگر ملیںتین ماہ کے اندر ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائیں، ورنہ ایسی ملوں کو بند کردیا جائے۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر تحفظات دور نہ کئے گئے تو ناصر باغ پراجیکٹ روک دیا جائے گا۔ عدالت نے لاہور کے804 پارکس کے حوالے سے بھی واضح پالیسی تشکیل دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ انویسٹرز سے سرمایہ لے کر پارکس کی خوبصورتی پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔  عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اورنج لائن بن چکی ہے، روڈا بننے جا رہا ہے، پتہ نہیں کیا ہوگا، میرے فیصلے موجود ہیں، ڈویلپمنٹ ہوسکتی ہے مگر گرین ڈویلپمنٹ بھی کوئی چیز ہے،  ڈی جی ایل ڈی اے ناصر باغ پراجیکٹ کے بارے  میں ماہر تعمیرات کو مطمئن کریں،  پی ایچ اے درختوں کی پلانٹیشن کرے، لاہور میں جو پارک ٹھیک حالت میں نہیں، ان کو بحال کیا جائے،  تجاوزات کو ختم کریں، پارکس کو بحال کریں۔  عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ناصرباغ، گورنمنٹ کالج اور اسی نوعیت کے تاریخی مقامات شہر کاچہرہ ہیں، ایل ڈی اے کو چاہئے کہ ان تاریخی اثاثوں کو خراب کرنے سے ہرممکن اجتناب کرے۔ اگر منصوبہ بندی مناسب نہ ہوئی تو عدالت کو اسے روکنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ناصر باغ منصوبے کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد سوسائٹی کے نمایاں اور باشعور طبقات سے تعلق رکھتے ہیں، اس لئے ان کے مؤقف کو سنجیدگی سے سننا ضروری ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر کارکردگی رپورٹ طلب کرلی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: عدالت نے

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ