انڈے کھانے کیلئے محفوظ ہیں یا نہیں، ابالنے سے قبل کیسے معلوم کیا جائے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
انڈے بظاہر تازہ اور خراب دونوں حالتوں میں باہر سے ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، اس لیے استعمال کرنے سے قبل ان کی جانچ بہت ضروری ہے۔
غذائیت سے بھرپور اور روزمرہ خوراک کا اہم حصہ انڈے خراب یا آلودہ ہونے کی صورت میں صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق انڈوں میں ممنوعہ اینٹی بائیوٹک مادہ نائٹروفیوران موجود ہو سکتا ہے۔ اس مادے کے طویل عرصے تک استعمال سے صحت کے متعدد مسائل پیدا ہوتے ہیں، اسی لیے انڈوں کی تازگی اور معیار جانچنا اہم ہے۔
ذیل میں انڈوں کی حفاظت اور تازگی جانچنے کے 7 آسان گھریلو طریقے درج ہیں:
پانی میں ڈال کر جانچنا (فلوٹ ٹیسٹ)
ایک برتن میں ٹھنڈا پانی بھریں اور انڈا اس میں ڈال دیں۔ اگر انڈا نیچے جا کر سیدھا بیٹھ جائے تو بالکل تازہ ہے اور اگر برتن کے پیندے میں نیچے جا کر کھڑا ہو جائے تو پرانا مگر استعمال کے قابل ہے، اگر تیرنے لگے تو خراب ہے، لہٰذا فوراً ضائع کر دیں۔
سونگھ کر دیکھیں
انڈے سے بدبو آ رہی ہو تو اسے ہرگز استعمال نہ کریں۔ خراب انڈے سے تیز اور ناگوار بدبو آتی ہے۔
چھلکے کا معائنہ
انڈے کے چھلکے میں دراڑ، چپچپاہٹ یا پھپھوندی لگی ہو تو یہ خراب ہونے کی علامت ہے۔
انڈے کو ہلا کر آواز سنیں
انڈا کان کے قریب لا کر ہلا کر دیکھیں۔ اگر آواز نہ آئے تو انڈا تازہ ہے اور اگر اندر سے پانی جیسی آواز آئے تو انڈا پرانا ہو چکا ہے۔
توڑنے کے بعد جانچ
تازہ انڈے کی زردی گول اور اس کی جِھلی مضبوط ہوتی ہے جبکہ سفیدی گاڑھی ہوتی ہے، اگر انڈے کا رنگ بدلا ہوا یا عجیب ہو تو انڈا ضائع کر دیں۔
تاریخ چیک کریں
کچھ انڈے فارم ہاؤسز سے مارکیٹ میں لائے جاتے ہیں، ان پر اسٹامپ اور تاریخ موجود ہوتی ہے، اگر آپ پرچون کے بجائے سپر مارکیٹ سے انڈے خرید رہے ہیں تو انڈوں کے ڈبے پر درج میعاد ختم ہونے کی تاریخ ضرور دیکھیں اور انڈے فریج میں محفوظ رکھیں۔
روشنی سے جانچ (کینڈلنگ ٹرک)
اندھیرے کمرے میں موبائل کی روشنی انڈے پر رکھیں۔ تازہ انڈے میں لائٹ گزرنے کی گنجائش زیادہ جبکہ پرانے انڈے میں اندرونی حصہ دھندلا نظر آتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔