ڈہرکی میں روزنامہ حقیقت کے سی ای او پر 6مسلح افراد کا حملہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈہرکی( نمائندہ جسارت)ڈہرکی کے نواحی علاقے میں حقیقت ویب نیوز چینل و روزنامہ حقیقت اخبار کے سی،ای،او وزیر احمد مہر پر 6 مسلح ہتھیار بندوں کا قاتلانہ حملہ۔ صحافی کی کمال بہادری بھری اچانک جوابی فائرنگ سے ملزمان بوکھلا کر فرار ہونے میں کامیاب۔ پولیس کی ہمیشہ کی طرح حسب معمول تاخیر مسلحہ ہتھیار حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب۔ اس افسوسناک واقع پر صحافتی برادری کا شدید غم و غصہ اور شدید تشویش کا اظہار اور ملزمان کی فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق ڈہرکی کے نواح میں حقیقت ویب نیوز چینل اور روزنامہ حقیقت اخبار کے سی ،ای،او اور پروجیکٹ ڈائریکٹر اینٹی اسمگلنگ ویلفیئر فاؤنڈیشن سکھر ریجن وزیر احمد مھر پر حملہ کے لئیے گھات لگا کر بیٹھے 6 کے لگ بھگ نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے اس وقت اچانک سامنے آ کر فائرنگ شروع کر دی جب وزیر احمد مھر اپنے ذرعی فارم ہاؤس سے واپس ڈہرکی سٹی اپنے گھر جا رہے تھے کہ ان پر حملہ کے لئیے چھپ کر بیٹھے ہوئے نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے انہیں مبینہ طور پر قتل کی نیت سے اچانک ان پر حملہ کر دیا جس پر وزیر احمد مہر نے کمال بہادری کے ساتھ اپنی طرف سے حملہ آور پر جوابی فائرنگ کی جس پر حملہ آور بوکھلا گئے اورفرار ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔