میرے بیان پر کچھ لوگوں نے تیلی دکھا کر آگ بھڑکائی، ندا یاسر
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ اور میزبان ندا یاسر نے حال ہی میں تنازع بننے والے اپنے بیان کو اچھالنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خیر میں نے اپنے بیان پر معذرت کرلی اب کسی کو دل برا نہیں رکھنا چاہیے۔
کراچی میں منعقدہ 24ویں لکس اسٹائل ایوارڈ کی تقریب میں شرکت کے وقت صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے ندا یاسر نے سب سے پہلے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے جو لباس پہنا ہے وہ کسی ڈیزائنر کا نہیں بلکہ خود بنایا ہے۔
ندا یاسر نے اپنے حالیہ تنازع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اتنے سال سے شوز کررہی ہوں، اپنے ساتھ پیش آئے واقعات ویسے ہی سناتی ہوں جیسے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر سناتے ہیں، وہ بھی اسی طرح کی باتیں چل رہی تھیں مگر کچھ لوگوں نے تیلی لگا کر آگ لگا دی۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے بیان پر معافی مانگ لی ہے اور اب کسی کو بھی مجھ سے اپنا دل میلا نہیں رکھنا چاہیے، مگر ایک بات ضرور ہے کہ ایسے وقت میں آپ کے دوستوں اور دشمنوں کا معلوم ہوجاتا ہے۔
یاسر حسین کے ساتھ فلم بنانے کے سوال پر ندا یاسر نے کہا کہ ابھی میں اور یاسر الگ الگ کام کر کے پیسے جمع کررہے ہیں جب بہت سارے پیسے ہوجائیں گے تو پھر فلم بنائیں گے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ندا یاسر نے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔