لاہورمیں بسنت فیسٹیول منانے کا فیصلہ قابل مذمت ہے، جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے حکومتِ پنجاب کی جانب سے لاہور میں بسنت منانے کے فیصلے کو شدید ترین الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے عوام دشمن، غیر ذمہ دارانہ اور انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بسنت کے نام پر پتنگ بازی محض ایک تفریح نہیں بلکہ ماضی میں درجنوں معصوم جانیں نگلنے والا ایک خونی کھیل ہے، جسے دوبارہ زندہ کرنے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ حکومت نے اس فیصلے سے ثابت کر دیا ہے کہ اسے عوام کی جان و مال کے تحفظ سے زیادہ میلوں ٹھیلوں اور نمائشی فیصلوں کی فکر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول منانے کے فیصلے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں لاہور اور پنجاب بھر میں دھاتی ڈور کے استعمال سے بے شمار شہری جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ موٹر سائیکل سواروں کی گردنیں کٹنے، بچوں کے چھتوں سے گرنے، کرنٹ لگنے اور گلی محلوں میں بھاگ دوڑ کے دوران پیش آنے والے حادثات نے ہر گھر کو خوفزدہ کر رکھا تھا۔ ایسے میں بسنت کی بحالی کا اعلان کرنا انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے، جو صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت نے ماضی کے المناک واقعات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بسنت کے پیچھے مخصوص لابیاں اور کاروباری مفادات کارفرما ہیں جو نوجوانوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر منافع کمانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی بھی ایسے اقدام کی مزاحمت کرے گی جو معاشرے میں بے راہ روی، خطرناک سرگرمیوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے۔محمد جاوید قصوری نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً اس غیر سنجیدہ اور جان لیوا فیصلے کو واپس لے، انسانی جان کا تحفظ اولین ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔