data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے حکومتِ پنجاب کی جانب سے لاہور میں بسنت منانے کے فیصلے کو شدید ترین الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے عوام دشمن، غیر ذمہ دارانہ اور انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بسنت کے نام پر پتنگ بازی محض ایک تفریح نہیں بلکہ ماضی میں درجنوں معصوم جانیں نگلنے والا ایک خونی کھیل ہے، جسے دوبارہ زندہ کرنے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ حکومت نے اس فیصلے سے ثابت کر دیا ہے کہ اسے عوام کی جان و مال کے تحفظ سے زیادہ میلوں ٹھیلوں اور نمائشی فیصلوں کی فکر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور میں تین روزہ بسنت فیسٹیول منانے کے فیصلے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں لاہور اور پنجاب بھر میں دھاتی ڈور کے استعمال سے بے شمار شہری جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ موٹر سائیکل سواروں کی گردنیں کٹنے، بچوں کے چھتوں سے گرنے، کرنٹ لگنے اور گلی محلوں میں بھاگ دوڑ کے دوران پیش آنے والے حادثات نے ہر گھر کو خوفزدہ کر رکھا تھا۔ ایسے میں بسنت کی بحالی کا اعلان کرنا انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے، جو صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت نے ماضی کے المناک واقعات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بسنت کے پیچھے مخصوص لابیاں اور کاروباری مفادات کارفرما ہیں جو نوجوانوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر منافع کمانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی بھی ایسے اقدام کی مزاحمت کرے گی جو معاشرے میں بے راہ روی، خطرناک سرگرمیوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے۔محمد جاوید قصوری نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً اس غیر سنجیدہ اور جان لیوا فیصلے کو واپس لے، انسانی جان کا تحفظ اولین ذمہ داری ہے۔

وقائع نگار خصوصی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ