پٹرول 47 روپے، ڈیزل 50 روپے مہنگا ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پیٹرول 47 روپے اور ڈیزل 50 روپے مہنگا ہونے کا امکان ہے جبکہ ڈیلرز نے 8 فیصد مارجن نہ ملنے پر پمپس بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔
تفصیلا ت کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان پر شرط عائد کی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے تاکہ کاسٹ ریکوری ممکن ہو سکے، حکومت نے اس کے متبادل کے طور پر 2 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کی تجویز دی تھی لیکن آئی ایم ایف نے ابھی تک اسے منظور نہیں کیا۔
اگر آئی ایم ایف کی شرط منظور ہوئی تو پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 47 روپے اضافہ ہوگا، ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 50 روپے اضافہ ہوگا، اسی دوران، پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے دیے گئے مارجن کو مسترد کرتے ہوئے ملک بھر کے پمپس بند کرنے کا عندیہ دے دیا۔
چیئرمین ایسوسی ایشن عبد السمیع خان نے کہا کہ حکومت سے 8 فیصد مارجن مانگا گیا تھا، اور موجودہ مارجن صرف 3.
عبد السمیع خان نے حکومت کو 10 دن کا وقت دیا ہے، جس کے بعد ڈیلرز اپنی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کرکے حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے، حکومت چاہے تو مارجن کو قسطوں میں 8 فیصد تک بڑھا سکتی ہے تاکہ ڈیلرز کام جاری رکھ سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔