کراچی یلو لائن منصوبہ، لاگت 190 فیصد بڑھ گئی، ایکنک منظوری کی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
کراچی (نیوزڈیسک)یلو لائن منصوبے کی لاگت 190 فیصد بڑھ گئی، وفاقی وزیر احسن اقبال نے گزشتہ 6 سال میں منصوبے کی سست روی پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس احسن اقبال کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں کراچی یلو لائن منصوبے کے لیے 178 ارب 59 کروڑ روپے کی نظرِ ثانی شدہ لاگت کی منظوری دے دی گئی۔
2019ء میں اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 61 ارب 43 کروڑ روپے تھا، سی ڈی ڈبلیو پی نے 10 ارب 55 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی اور کراچی یلو لائن سمیت 256 ارب روپے مالیت کے 4 منصوبے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھیجنے کی سفارش کر دی۔
وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرِ صدارت سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں وزیرِ اعظم کے تعلیم فنڈز کے لیے 14 ارب روپے اور اے ایف آئی سی سمیت قومی ادارۂ امراضِ قلب توسیع کا 12 ارب 94 کروڑ روپے کا منصوبہ ایکنک کو بھیجنے کی سفارش کی گئی۔
اجلاس میں 4 ارب 28 کروڑ روپے کے پنجاب فیملی پلاننگ پروگرام منصوبے کی منظوری دی گئی۔
وزیرِ منصوبہ بندی نے کہا کہ آبادی کی 2 اعشاریہ55 فیصد شرحِ نمو ملکی ترقی کےلیے بڑا چیلنج ہے اور ملک میں پولیو وائرس کی موجودگی بھی شرمندگی کا باعث ہے جو صرف دنیا میں 2 ممالک میں پایا جا رہا ہے۔
اجلاس میں پنجاب واٹر ریسورس مینجمنٹ کےلیے 1 اعشاریہ 67 ارب روپے، گلگت بلتستان اور سابق فاٹا کے اسکولوں اور اسپتالوں کی سولرائزیشن کے لیے 2 ا رب 98 کروڑ ارب روپے کا منصوبہ منظور کیا گیا۔
اجلاس میں این ٹی ڈی سی اور اسکاڈا اپ گریڈ کا 50 ارب 37 کروڑ روپے کا منصوبہ ایکنک کو بھیج دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند