طبی شعبے میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری، ایف بی آر کا چونکا دینے والا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک کے طبی شعبے میں بڑے پیمانے پر مبینہ ٹیکس چوری کا پردہ فاش کر دیا ہے، جبکہ ٹیکس نیٹ میں شامل تقریباً 60 فیصد ڈاکٹرز نے رواں سال انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہیں کرائی۔
ایف بی آر کی جانب سے ملک بھر میں ڈاکٹرز، نجی اسپتالوں اور ڈائیگناسٹک سینٹرز کا جائزہ لیا گیا، جس کے دوران انکم ٹیکس ریٹرنز میں سنگین تضادات سامنے آئے۔ حکام کے مطابق متعدد ادارے آمدن ظاہر کیے بغیر کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انکم ٹیکس قوانین کی دفعہ 175 سی کے تحت ایف بی آر کو اسپتالوں اور نجی کلینکس میں پوائنٹ آف سیل سسٹم نصب کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم طبی شعبہ اس اقدام سے مسلسل گریزاں ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ معاملہ سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے اور اب وزیراعظم ہاؤس تک پہنچ چکا ہے۔ ایف بی آر نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ طبی شعبے میں ٹیکس چوری کا رجحان وقت کے ساتھ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹر کی جانچ اس لیے شروع کی گئی کیونکہ یہ دونوں شعبے سب سے زیادہ فنڈنگ حاصل کرتے ہیں، مگر ٹیکس ادائیگی کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف بی آر
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔