ڈاکٹر عاصم کیخلاف کرپشن کا مقدمہ سی کلاس کرنے کاچالان منظور
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251213-08-23
کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی اینٹی کرپشن عدالت نے 462 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے مقدمے میں ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر ملزمان کے خلاف پیش کیا گیا مقدمہ خارج کرنے کا سی کلاس چالان جزوی طور پر منظور کرلیا جبکہ منی لانڈرنگ سے متعلق الزامات کو متعلقہ فورم میں بھیجنے کا حکم دیا۔ اینٹی کرپشن کے تفتیشی افسر نے مقدمے کا سی کلاس چالان پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے نہیں آئے جن سے اینٹی کرپشن کے دائرہ اختیار میں کرپشن، بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ثابت ہوسکیں۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق الزامات اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت آتے ہیں اور اس حوالے سے الگ فورمز اور خصوصی دائرہ اختیار مقرر ہے لہٰذا اس حصے پر عدالت مناسب حکم جاری کرے۔عدالت نے تحریری حکم نامے میں قرار دیا کہ بادی النظر میں اینٹی کرپشن عدالت کے دائرہ اختیار میں آنے والے الزامات تحقیقات کے دوران ثابت نہیں ہوسکے جبکہ مقررہ اصول کے مطابق جہاں بنیادی حقائق استغاثہ کے الزامات سے مطابقت نہ رکھتے ہوں وہاں سی کلاس کے ذریعے مقدمہ نمٹایا جاسکتا ہے۔ عدالت نے اینٹی کرپشن عدالت کے دائرہ اختیار تک محدود الزامات کے لیے مقدمہ خارج کرنے کی سی کلاس رپورٹ منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت الزامات کی الگ رپورٹ تیار کرکے متعلقہ عدالت میں جمع کرائی جائے۔ واضح رہے کہ نیب نے 2016 میں ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کے خلاف ریفرنس دائر کیا تھا جسے احتساب عدالت نے مارچ 2024 میں دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر چیئرمین نیب کو واپس بھجواتے ہوئے اینٹی کرپشن کو ارسال کرنے کی ہدایت کی تھی۔ کیس اینٹی کرپشن عدالت میں زیر سماعت تھا، شریک ملزمان میں گروپ فنانس ایڈوائزر عبدالحمید، سابق ڈائریکٹر لینڈ کے ڈی اے سید اطہر حسین، مسعود حیدر جعفری، سابق سیکریٹری پیٹرولیم اعجاز چوہدری اور سابق سی ای او کے ڈی ایل بی صفدر حسین شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اینٹی کرپشن عدالت دائرہ اختیار منی لانڈرنگ عدالت نے سی کلاس
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔