پچیس سال سے کیا خاص کام نہیں کیا؟ سلمان خان کی نجی زندگی کا چونکا دینے والا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
بالی ووڈ کے سپر اسٹار سلمان خان نے پہلی بار اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک حیران کن بات بتائی ہے۔
سلمان خان نے بتایا ہے کہ وہ گزشتہ 25 سال سے کسی ریسٹورنٹ یا عام جگہ پر ڈنر کرنے نہیں گئے۔
ریڈ سی فلم فیسٹیول میں گفتگو کرتے ہوئے 59 سالہ اداکار نے بتایا کہ ان کی زندگی گھر، فلم سیٹ، ایئرپورٹ اور ہوٹل تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
فیسٹیول کے سیشن کی وائرل ویڈیوز میں سلمان خان اپنے بدلتے تعلقات اور وقت کے ساتھ سمٹتے ہوئے دوستوں کے بارے میں بھی بات کرتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’شروع کے دنوں میں جو دوست تھے، ان میں سے اب صرف چار پانچ ہی باقی ہیں۔‘‘
سلمان نے اعتراف کیا کہ زندگی اور شہرت نے انہیں آہستہ آہستہ ایسے دائرے میں لا کھڑا کیا جہاں عام زندگی گزارنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے بتایا ’’پچیس، چھبیس سال ہوگئے… میں کہیں باہر ڈنر پر نہیں گیا۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں عام زندگی نہ گزارنے کا افسوس ہے تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ سلمان خان نے کہا ’’مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں… یا تو آپ آزاد گھوم پھر سکتے ہیں اور یہ سب نہ ہو، لیکن میں ایسا نہیں چاہتا۔ لوگ جتنی عزت اور پیار دیتے ہیں، میں اسی کے لیے محنت کرتا ہوں۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کبھی کبھار وہ خود میں سستی محسوس کرتے ہیں، مگر پھر خود کو یہی کہہ کر حوصلہ دیتے ہیں کہ آگے اچھا وقت آنے والا ہے۔
ریڈ سی فیسٹیول میں یہ سلمان کا دوسرا سال ہے۔ اس موقع پر وہ ہالی ووڈ اسٹارز جونی ڈیپ، ادریس البا اور ایڈگر رامیرز سے بھی ملے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔