حضرت بی بی فاطمہؑ کی مکمل زندگی نمونہ عمل ہے، ڈاکٹر سید محمد نجفی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
جامع مسجد علیؑ حوزہ علمیہ جامعہ المنتظر لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ممتاز عالم دین کا کہنا تھا کہ خاتون جنت کا یوم ولادت عید کا دن ہے، حضرت خدیجة الکبری ٰ کی وفات کے بعد حضرت فاطمہ بنت اسد نے دختر رسول کا خیال رکھا، شیعہ وہ ہے جس کے مکمل اعضاء و جوارح پر اہل بیت اطہارؑ کی مرضی چلے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے رابطہ سیکرٹری حجتہ الاسلام ڈاکٹر سید محمد نجفی نے جامع مسجد علی حوزہ علمیہ جامعہ المنتظر میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خاتون جنت سلام اللہ علیہا کا یوم ولادت عید کا دن ہے، کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فاطمہ الزہرا ؑکی شکل میں بیٹی عطا فرمائیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت خدیجة الکبری ٰ سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد سب سے زیادہ جس خاتون نے خاتون جنت کا خیال رکھا وہ حضرت فاطمہ بنت اسد ہیں، البتہ ان کے علاوہ بھی چند خواتین کا تذکرہ ملتا ہے۔ روایات کے مطابق جناب فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا کی عمر 18 برس کے لگ بھگ ہے، اپنے اس عرصہ حیات میں پاک بی بی نے ایک مکمل زندگی گزاری، جو نمونہ عمل قرار پائی، چاہے وہ بیٹی کی صورت میں ہو، بیوی یا ماں کی صورت میں۔
رسول خدا فرماتے ہیں اے عائشہ! جب میں نے جنت کی خوشبو سونگنی ہوتی ہے تو اپنی بیٹی زہراؑ کے ہاتھ چوم لیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سردارالانبیاء تک بات پہنچانے کیلئے بہترین توسل ذات گرامی فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ کے حوالے سے استاد العلماء قبلہ علامہ محمد یار نجفی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ شخص کہ جس کے مکمل اعضاء و جوارح پر اہلبیت اطہارؑ کی مرضی چلے تو وہ شیعہ ہے، اگر محمد و آل محمد کی مرضی کے مطابق زندگی گزاریں گے تو شیعہ اہلبیت کہلائیں گے۔ ڈاکٹر سید محمد نجفی نے کہا کہ بی بی زہراؑ فرماتی ہیں کہ ہماری محبت کی سانچے میں زندگی گزاریں گے تو پھر آپ ہمارے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آیت مباہلہ، آیت تطہیر وہ آیات ہیں جنہیں خاص طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ شان بی بی زہرا ؑکے حق میں نازل ہوئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سلام اللہ علیہا نے کہا کہ
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن