پی ٹی آئی سے بات چیت میں مکمل ڈیڈلاک ہے: رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی بطور جماعت اور بانی پی ٹی آئی 9 مئی اور اپنے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کریں اور معذرت کریں، ایسی صورت میں شاید کوئی راستہ کھلے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی اپنے بیانات پر قائم رہتے ہیں تو ڈیڈ لاک برقرار رہے گا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی سے بات چیت کی کوشش کی گئی، بانی پی ٹی آئی کے اپنے بیانات کی وجہ سے ڈیڈ لاک کی صورتِ حال پیدا ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ مستقل معمول بنا لیں گے کہ ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے قریب احتجاج کریں گے تو اس صورت میں حکومت بانی پی ٹی آئی کی کسی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے بطور جماعت اور بانی پی ٹی آئی نے ادارے پر براہ راست تنقید کی، ادارے کے خلاف بات چیت کو لوگ پسند نہیں کریں گے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ بھارت ہمارا دشمن ملک ہے، بانی پی ٹی آئی نے پروپیگنڈے میں اس کا ساتھ دیا، پی ٹی آئی سے گفتگو کا کوئی طریقہ کار نہیں اپنایا جا سکتا۔
رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی سوچ ہمیشہ سیاسی اور جمہوری حوالے سے واضح رہی ہے، انہوں نے ہمیشہ افہام و تفہیم کی بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت ہونی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر خود کہہ چکے کہ سیاسی جماعتیں آپس میں بات کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ انہوں نے بات چیت
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔