قرآن و سنت میں نوزائدہ کو 2 سال تک دودھ پلانے کی ہدایت ہے، سردار محمد یوسف
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ قرآن و سنت میں نوزائدہ بچوں کو 2 سال تک ماں کا دودھ پلانے کی واضح ہدایت موجود ہے۔
وزارت مذہبی امور اور یونیسف کے اشتراک سے ماں کے دودھ کے فروغ اور تحفظ کے لیے منعقدہ مذہبی رہنماؤں کی مشاورتی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ قرآن و حدیث میں ماں کے دودھ کی اہمیت اور اس کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ ماں کا دودھ بچے کی پہلی اور بہترین غذا ہے اور نوزائدہ کا بنیادی حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کی صحت اور ماؤں کو بااختیار بنانے کے لیے قومی سطح پر عزم کا اظہار
ان کا کہنا تھا کہ ماں کا دودھ بچے کو بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے اور احادیث میں دودھ پلانے والی ماؤں کے لیے اجر کی خوش خبری بھی ملتی ہے۔
ماں کا دودھ بچے کو بیماریوں سے تحفظ فراہم کرتا ہے, سردار محمد یوسف#BreastfeedingBenefits #ChildHealth #SardarMuhammadYousaf #InfantNutrition #BabyProtection #HealthyStart #MothersMilk #DiseasePrevention #EarlyChildhoodHealth #PakistanHealth #ChildcareAwareness pic.
— APP (@appcsocialmedia) December 11, 2025
سردار محمد یوسف نے کہا کہ دنیا کے بڑے مذاہب بھی ماں کے دودھ کو مقدس اور فطری عمل قرار دیتے ہیں جو بین المذاہب ہم آہنگی کو مضبوط کرتا ہے، ملک کو بچوں کی غذائی قلت، بیماریوں اور نوزائیدہ اموات جیسے مسائل کا سامنا ہے اور ماں کا دودھ ان مسائل کا قدرتی حل ہے۔ لیکن معاشرتی غلط فہمیاں اور مصنوعی غذاؤں کی بے جا تشہیر دودھ پلانے کے عمل کو متاثر کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں علما کرام اور مذہبی رہنماؤں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا ایک بیان لاکھوں گھرانوں کے رویے بدل سکتا ہے۔
انہوں نے علما کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کو اہم پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ وزارت مذہبی امور مکمل تعاون کرے گی۔ مساجد، مدارس اور مذہبی اداروں کے ذریعے قومی آگاہی مہم شروع کی جائے گی تاکہ درست معلومات ہر گھر تک پہنچ سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ماں کا دودھ ہی بچے کی اصل طاقت‘: کراچی میں پہلا ہیومن مِلک بینک قائم کر دیا گیا
تقریب میں حافظ طاہر اشرفی، علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، پیر سید چراغ الدین شاہ، علامہ عارف حسین واحدی، سجاد حسین نقوی، پیر ممتاز ضیا نظامی، ڈاکٹر علی طارق، علامہ امین شہیدی، مولانا ہارون الرشید، سمیع اللہ آغا، مولانا تنویر علوی اور دیگر طبی و غذائی ماہرین نے موضوع پر قرآن و سنت اور سائنسی بنیادوں پر گفتگو کی۔
تقریب میں محمد بخش سانگی، جوائنٹ سیکرٹری، ملک وارث اعوان، ڈائریکٹر ایجوکیشن، ڈاکٹر شاہد الرحمن، ڈپٹی ڈائریکٹر قرآن، جبکہ یونیسف پاکستان سے ڈاکٹر شرمیلا رسول، ارٹینا جی میناس، فہمیدہ خان، ایلنار، ڈاکٹر صبا شجاع، سلمان اور عظمی بتول بھی شریک تھیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان دودھ سردار محمد یوسف قرآن و حدیث ماں نوزائیدہ وزارت مذہبی امور
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان سردار محمد یوسف سردار محمد یوسف ماں کا دودھ دودھ پلانے نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔