وزیراعظم کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 11 فیصد بڑھانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وزیراعظم نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 11 فیصد تک بڑھانے کی ہدایت کردی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور پر اعلیٰ سطح اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ وزیراعظم کو ٹیکس محصولات کے اہداف، معیشت کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس چوری کے خلاف جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 11 فیصد کے ہدف تک لے جانے کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینے، حکومت کے تمام شعبوں میں مؤثر ٹیکس انفورسمنٹ یقینی بنانے اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کی بھی ہدایت جاری کی۔
وزیراعظم نے کسٹمز کلیئرنس میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے دورانیہ کم ہونے پر ایف بی آر حکام کی تعریف کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ درآمدات و برآمدات کی کسٹمز کلیئرنس کے دورانیے کو مزید کم کیا جائے۔
وزیراعظم نے غیر قانونی سگریٹ سازی میں ملوث فیکٹریوں کے خلاف مؤثر کارروائی پر ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے ایف بی آر کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ملک بھر میں تمباکو کے شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایف بی آر اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے متعدد فوکل پرسن تعینات کر دیے گئے ہیں، جب کہ حالیہ دنوں میں غیر قانونی سگریٹس کی بڑی مقدار قبضے میں لی گئی ہے۔
وزیراعظم کو مختلف ٹربیونلز اور اداروں میں ٹیکس سے متعلق زیر التواء مقدمات پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
وزیراعظم سے چیئرمین واپڈا نے بھی ملاقات کی۔ آبی ذخائر میں اضافے اور ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ چیئرمین واپڈا نے وزیراعظم کو واپڈا کے زیرِ نگرانی جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ملاقات کے دوران آبی ذخائر میں اضافہ اور واپڈا کے دیگر انتظامی و تکنیکی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں وزیراعظم کو ملک میں آبی وسائل کے تحفظ اور ذخیرہ بڑھانے سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وزیراعظم کو ایف بی ا ر کی ہدایت
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں