اسلام ٹائمز: تکفیری دہشت گردی سے درپیش بحران کے عروج پر، آیت اللہ العظمی سید علی السیستانی کی طرف سے 13 جون 2014ء کے دن ایک تاریخی فتوا جاری کیا گیا جس میں داعش کے خلاف جہاد کو واجب کفائی قرار دیا گیا۔ نجف سے جاری ہونے والی اس فتوے میں عراقی شہریوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ وطن کے دفاع کی خاطر سیکورٹی فورسز کا ساتھ دیں اور نہ صرف شیعہ بلکہ سنی، کرد اور عیسائیوں کو بھی متحرک کریں۔ اس فتوے کی اہمیت فوجی پہلو سے بھی آگے نکل گئی اور وہ عراق کی قومی تاریخ میں ایک ایسا اہم موڑ ثابت ہوا جس نے میدان جنگ کا توازن دفاع سے حملے کی طرف موڑ دیا اور عوام میں قومی ذمہ داری کا احساس پیدا کیا۔ اس فتوے نے دسیوں ہزار رضاکاروں کو متحرک کیا اور فرقہ وارانہ اتحاد کی لہر پیدا کی جس کے باعث سقوط بغداد کا خطرہ ٹل گیا۔ اس فتوے نے ایک وسیع عوامی جدوجہد کو جنم دیا اور جنگ کا رخ تبدل کر دیا اور اس کی اہمیت کے پیش نظر عراقی پارلیمنٹ نے 13 جون کو قومی دن قرار دے دیا۔ تحریر: مہدی سیف تبریزی
10 دسمبر 2025ء کے دن عراقی قوم اور حکومت نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش پر فتح کی آٹھویں سالگرہ منائی ہے۔ یہ دن عراق کے قومی کیلنڈر میں مسلح افواج، حشد الشعبی (پاپولر موبیلائزیشن فورسز) اور عراقی عوام کی قربانیوں کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی سرزمین کو تکفیری دہشت گردی سے بچانے کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کی۔ مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نیز حشد الشعبی کے کمانڈروں نے مبارک باد پر مبنی اپنے پیغامات میں اس فتح کو ایک تاریک خواب کا خاتمہ اور استحکام کے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔ عراقی وزیر اعظم محمد شیاع السوڈانی نے اس دن کو عراقیوں کے شجاعانہ موقف کی یاد تازہ کر دینے والا دن قرار دیا اور کامیابیوں کے تحفظ پر زور دیا۔ عراقی صدر عبداللطیف رشید نے بھی عوام اور مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے باہمی اتحاد پر زور دیا ہے۔
عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمود المشہدانی نے مسلح افواج کے اقدامات کو تاریخ کا ایک روشن صفحہ قرار دیا۔ سپریم اسلامی کونسل کے صدر شیخ ہمام حمودی نے شہداء کی یاد کو زندہ رکھنے اور اتحاد کو مضبوط بنانے پر توجہ دی۔ پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر محسن المندلاوی نے اس شجاعانہ جنگ کی تعریف کی جو ملک کی خودمختاری اور وقار بحال ہو جانے کا باعث بنی۔ حشد الشعبی کے سربراہ فلاح الفیاض نے عوامی رضاکار فورس کی تشکیل میں مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمی سید علی السیستانی کے فتوے کے کردار پر روشنی ڈالی اور اس فتح کو عوام کی قربانیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ عصائب اہل الحق کے سیکرٹری جنرل شیخ قیس خز علی نے ایران کی برادرانہ حمایت کو سراہا۔ قومی حکمت پارٹی (نیشنل وزڈم موومنٹ) کے سربراہ سید عمار حکیم نے مرجع عالی قدر اور ان کے فتوے پر لبیک کہنے والوں کو مبارکباد پیش کی۔شیعہ، سنی اور کرد رہنماؤں کے یہ پیغامات عراق میں سلامتی اور ترقی برقرار رکھنے کے اجتماعی عزم کا اظہار کرتے ہیں۔
دہشت گردی کا خطرہ ظاہر ہونے کی کہانی
عراق میں القاعدہ کی ذیلی شاخ کے طور تکفیری دہشت گرد گروہ داعش 2011ء میں امریکہ کے فوجی انخلاء کے بعد اور سیاسی عدم استحکام اور فوج کی کمزوری کے سائے میں تیزی سے پروان چڑھا۔ اس گروہ نے 2013ء شام کی داعش سے الحاق کا اعلان کر دیا اور یوں "اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا" (ISIS) کا نام اختیار کرگیا۔ 2014ء میں سعودی عرب، قطر، اور سلفی وہابی تحریکوں کی مالی اور عسکری مدد سے نیز امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی طرف سے واضح طور پر آنکھیں بند کر لینے کے ساتھ داعش نے عراق پر ایک بڑے حملے کا آغاز کر دیا جس کا عروج 10 جون 2014ء کے دن موصل پر اس کے قبضے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ قبضہ محض چند سو دہشت گردوں کے مقابلے میں عراقی فوج کے دسیوں ہزار سپاہیوں کے فرار ہو جانے کا نتیجہ تھا۔
موصل پر قبضے کے بعد داعش نے مرکزی بینک سے 1.
تاریخی فتوا اور عوامی دفاع کا آغاز
تکفیری دہشت گردی سے درپیش بحران کے عروج پر، آیت اللہ العظمی سید علی السیستانی کی طرف سے 13 جون 2014ء کے دن ایک تاریخی فتوا جاری کیا گیا جس میں داعش کے خلاف جہاد کو واجب کفائی قرار دیا گیا۔ نجف سے جاری ہونے والی اس فتوے میں عراقی شہریوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ وطن کے دفاع کی خاطر سیکورٹی فورسز کا ساتھ دیں اور نہ صرف شیعہ بلکہ سنی، کرد اور عیسائیوں کو بھی متحرک کریں۔ اس فتوے کی اہمیت فوجی پہلو سے بھی آگے نکل گئی اور وہ عراق کی قومی تاریخ میں ایک ایسا اہم موڑ ثابت ہوا جس نے میدان جنگ کا توازن دفاع سے حملے کی طرف موڑ دیا اور عوام میں قومی ذمہ داری کا احساس پیدا کیا۔ اس فتوے نے دسیوں ہزار رضاکاروں کو متحرک کیا اور فرقہ وارانہ اتحاد کی لہر پیدا کی جس کے باعث سقوط بغداد کا خطرہ ٹل گیا۔ اس فتوے نے ایک وسیع عوامی جدوجہد کو جنم دیا اور جنگ کا رخ تبدل کر دیا اور اس کی اہمیت کے پیش نظر عراقی پارلیمنٹ نے 13 جون کو قومی دن قرار دے دیا۔
داعش کے خاتمے میں ایران کا نمایاں کردار
اسلامی جمہوریہ ایران نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے واضح حکم پر عراق پر داعش کے حملے کے آغاز سے ہی اس ملک کو بچانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لانا شروع کر دی تھیں۔ یہ اسٹریٹجک حکم عراقی قوم اور حکومت کے لیے ایران کی غیر مشروط، تیز رفتار اور جامع حمایت کی بنیاد بن گیا۔ میدان جنگ میں بھی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر شہید لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی نے ایک بے مثال اور فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ وہ خود کو "مرجع عالی قدر کا سپاہی" کہتے ہوئے آیت اللہ العظمی سیستانی کے فتوے کے فوراً بعد عراق میں داخل ہوئے اور داعش کے خلاف حتمی فتح کے دن تک عملی طور پر پورے مزاحمتی محاذ کے مرکزی کمانڈر کا کردار ادا کرتے رہے۔ آمرلی اور سامرا کا محاصرہ توڑنے سے لے کر جرف النصر، تکریت، بیجی، فلوجہ، رمادی اور موصل کو آزاد کرانے تک تمام فوجی آپریشنز کی منصوبہ بندی اور ان پر عملدرآمد شہید قاسم سلیمانی کی براہ راست، چوبیس گھنٹے کی نگرانی سے انجام پاتا رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آیت اللہ العظمی سید علی تکفیری دہشت کی اہمیت قرار دیا داعش کے پیدا کی دیا اور کیا گیا اور اس کر دیا جنگ کا کی طرف
پڑھیں:
صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش
سٹی 42:صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ نے بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش کی
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بلوچستان میں 17 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ملک دشمن عناصر کو سختی سے کچلا جائے گا۔سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔پوری قوم کو اپنے جوانوں پر فخر کرتی ہے۔آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کی ستائش کی ۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا ۔ محسن نقوی نے کہا سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرکے بلوچستان میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پوری قوم کو سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں پر مان ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان میں کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو سراہا۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم 17 فتنتہ الھندوستان کے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیابیاں پوری قوم کے عزم اور اتحاد کی عکاس ہیں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان میں فتنۂ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ صدرِ مملکت نے مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں 17 دہشت گردوں کی ہلاکت کو سراہا ۔ صدر مملکت نے کہا ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جانا اولین ترجیح ہے۔فتنۂ ہندوستان اور اس کے سہولت کاروں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ