اسپیس ایکس کی مالیت 2026 میں 1.5ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، ایلون مسک
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ایلون مسک نے باضابطہ طور پر اسپیس ایکس کے آئی پی او کے بارے میں گردش کرنے والی رپورٹس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپیس ایکس کی مالیت 2026 میں 1.5ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس کی منصوبہ بندی ہے کہ وہ وسط سے آخر 2026 میں ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کرے جو 32 ارب ڈالر سے زائد رقم اکٹھا کرسکتی ہے اور کمپنی کی مالیت 1.
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کا کامیاب مشن: نیا فالکن 9 راکٹ مزید 28 سیٹلائٹس لے اڑا
ایلون مسک نے ایکس پر آرک ٹیکنیکا کے سینیئر اسپیس ایڈیٹر ایرک برجر کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’جیسا کہ عادت ہے، ایرک درست ہیں‘ اور کمپنی کی عوامی ہونے کی منصوبہ بندی کی تفصیلات کی تصدیق کی۔
Here's why I think SpaceX is going public soon.https://t.co/KEZIjhEsTH
— Eric Berger (@SciGuySpace) December 10, 2025
یہ حالیہ اقدام براہِ راست اے آئی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے جڑا ہے، جس میں اسٹارلنک سیٹلائٹس کو مدار میں ڈیٹا سینٹرز میں تبدیل کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ یہ سینٹرز مستقل سولر توانائی اور قدرتی کولنگ استعمال کریں گے۔ منصوبوں میں چاند پر فیکٹریاں بھی شامل ہیں جو اے آئی سیٹلائٹس تیار کریں گی۔
گارڈین کے مطابق اسپیس ایکس، جو راکٹس ڈیزائن، منصوبہ بندی اور لانچ کرنے کے لیے مشہور ہے، نے ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے لیے بینکوں سے بات چیت شروع کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دولت کمانے کی دوڑ، ایلون مسک نے نیا ریکارڈ اپنے نام کرلیا
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کمپنی کی کل مالیت تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر پر دیکھ رہے ہیں اور اسٹارلنک کی ترقی اور اسٹارشپ کی پیشرفت کی بنیاد پر 32 ارب ڈالر سے کافی زیادہ رقم جمع کرنے کی توقع ہے۔
اس ہفتے کے آغاز میں رپورٹس آئیں کہ کمپنی سرمایہ کاروں کے ساتھ شیئر سیل پر بات چیت میں ہے، جس سے کمپنی کی مالیت 800 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، تاہم اسپیس ایکس کے سی ای او نے ان رپورٹس کو مکمل طور پر رد کر دیا۔
ایلون مسک، جو کمپنی میں 42 فیصد حصص رکھتے ہیں، کے مطابق یہ عوامی مارکیٹس سب سے تیز اور قابل اعتماد ذریعہ ہیں تاکہ دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں سے سخت مقابلے کے دوران وسائل اکٹھا کیے جاسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک دنیا کے پہلے ٹریلیئنر بننے کے قریب؟ اس کا دنیا پر کیا اثر پڑےگا؟
ایلون مسک نے نومبر میں شیئر ہولڈرز کے اجلاس میں کہا ’میں واقعی کسی طرح یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ ٹیسلا کے شیئر ہولڈرز اسپیس ایکس میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں۔ میں کافی سوچ رہا ہوں کہ لوگوں کو اسپیس ایکس اسٹاک تک رسائی کیسے دی جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’شاید کسی موقع پر، اسپیس ایکس کو عوامی کمپنی بن جانا چاہیے، چاہے عوامی ہونے کے نقصانات ہوں۔‘ ووڈ کی آرک انویسٹ کی پیش گوئی کے مطابق اسپیس ایکس کی کمپنی 2030 تک تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر کی مالیت تک پہنچ سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسپیس ایکس ایکس ایلون مسک مالیت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیس ایکس ایکس ایلون مسک مالیت اسپیس ایکس کی ڈالر تک پہنچ ایلون مسک نے کمپنی کی کے مطابق کی مالیت
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔