اے آئی وہ طاقت جو دنیا میں مساوات قائم کر سکتی ہے: سام آلٹمین
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے ایک تازہ انٹرویو میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور خاص طور پر چیٹ جی پی ٹی کی بے مثال کامیابی پر روشنی ڈالی اور ساتھ ہی ان کے ممکنہ خطرات اور پیچیدگیوں کا بھی اعتراف کیا۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی نے محض تین سال کے مختصر عرصے میں دنیا بھر میں اسمارٹ فونز کی طرح تیزی سے پذیرائی حاصل کی ہے اور یہ عام صارفین کی روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔
سام آلٹمین نے اس ٹیکنالوجی کے فوائد اور نقصانات دونوں پر بھی تبصرہ کیا، انہوں نے کہا کہ اے آئی نہ صرف معلوماتی اور عملی پہلوؤں میں مساوات قائم کر سکتی ہے بلکہ دنیا کے امیر اور طاقتور افراد کو بھی وہی وسائل فراہم کرتی ہے جو اربوں عام صارفین استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اوپن اے آئی کے سسٹمز معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں اور یہ ٹیکنالوجی افراد کو نہ صرف معلومات تک رسائی فراہم کرتی ہے بلکہ روزمرہ کے عملی کاموں میں بھی معاونت کرتی ہے، جیسے سی وی لکھنے، سافٹ وئیر کوڈ تیار کرنے، سفری منصوبے بنانے اور دیگر ذاتی و پیشہ ورانہ امور میں۔
آلٹمین نے واضح کیا کہ چیٹ جی پی ٹی کی طاقت کو محدود کر کے جمع کرنے کے بجائے اسے تقسیم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اس ٹیکنالوجی کی تیز رفتار اپنائیت کے باعث مستقبل میں غیر متوقع تبدیلیاں آ سکتی ہیں، اور اس لیے لوگوں کو اسے اپنانے کے ساتھ ساتھ حفاظتی تدابیر بھی تیار رکھنی چاہئیں۔
سام آلٹمین کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی پیچیدگیوں کے ساتھ آتی ہے، مگر اس کے فوائد اس کے ممکنہ خطرات سے کہیں زیادہ ہیں، اور اسے سمجھداری اور احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی سام آلٹمین اے ا ئی
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔