کراچی: مین ہول میں گر کر بچہ جاں بحق، تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کرنے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
گلشن اقبال میں 3 سالہ بچے ابراہیم کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے کی تحقیقات کیلئے ارکان اسمبلی پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دے دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کیلئے محکمہ بلدیات کی ارکان اسمبلی پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، پیپلز پارٹی کے تین ارکان اسمبلی کے نام تجویز کیے گئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں ماہرہ خان نے کہا کہ کراچی میں ایک ماں کی وہ ویڈیو دیکھی جو اپنے بچے کے لیے بے بسی سے چیختے اور روتے ہوئے مدد مانگ رہی تھی۔
کمیٹی حادثے کی وجوہات، مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام سے متعلق تجاویز مرتب کرے گی، تحقیقاتی کمیٹی متعلقہ حکام سے معلومات حاصل کرے گی۔
خیال رہے کہ 30 نومبر کی رات کراچی کے نیپا فلائی اوور کے قریب گٹر میں گرنے والے بچے ابراہیم کی لاش 14 گھنٹوں کی تلاش کے بعد نالے سے نکالی گئی تھی۔
بچے کے نانا نے میئر کراچی سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ لینے کیلئے سب آتے ہیں لیکن ان کی مدد کو کوئی نہیں آیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ واٹر کارپوریشن کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، اگر کوئی افسر غفلت میں ملوث ہوا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ بچے کے والدین کی تڑپ کا احساس ہے اور واقعہ پر افسوس بھی کرتا ہوں۔
بچے کے والد نبیل کا کہنا تھا کہ ہم شاہ فیصل کے رہائشی ہیں اور میں اپنی بیوی اور بیٹے کے ہمراہ نیپا شاپنگ مال آیا تھا جب ہم نے شاپنگ کی تو باہر نکلے اور باہر آکر میرا بیٹا ہاتھ چھڑوا کر بھاگا۔
میئر کراچی نے کہا کہ معطل کرنا شروعات ہے، ابھی انکوائری شروع ہوئی ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نے صبح اجلاس بلایا تھا، انکوائری ہونی ہے،
والد کا کہنا تھا کہ میری موٹر سائیکل گٹر کے مین ہول کے قریب پارک تھی جبکہ گٹر کے مین ہول پر ڈھکنا موجود نہیں تھا، انہوں نے بتایا کہ میری آنکھوں کے سامنے گٹر میں میرا بیٹا گرا ہے۔
بچے کے والد نے بتایا کہ میرے بیٹے ابراہیم کی عمر تین سال ہے اور یہ میری اکلوتی اولاد تھی۔
بچے کے دادا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ موٹرسائیکل کی پارکنگ فیس لی جاتی ہے لیکن گٹر کا ڈھکن نہیں لگایا جاتا، گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ، مرتضیٰ وہاب ہمارے بچے کو اپنا بچہ سمجھ کر ریسکیو کا کام کروائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مین ہول میں گر کر کا کہنا تھا کہ میئر کراچی بچے کے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔