بھارتی حکومت نے حال ہی میں اسمارٹ فونز میں سرکاری سائبر سیکیورٹی ایپ پری انسٹال کرنے کا فیصلہ واپس لیا تھا، مگر اب ایک نیا اور زیادہ سخت منصوبہ سامنے آیا ہے۔ اس تجویز کے تحت اسمارٹ فون بنانے والی تمام کمپنیوں کو اپنے فونز میں مستقل طور پر فعال سیٹلائٹ لوکیشن ٹریکنگ ان ایبل رکھنا ہوگی۔
اس مجوزہ نظام میں صارفین کو لوکیشن سروسز بند کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، یعنی جی پی ایس ہر وقت آن رہے گا۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ٹیلی کام انڈسٹری نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ فون میں وہ نوٹیفکیشنز بھی بند کر دیے جائیں جو صارفین کو آگاہ کرتی ہیں کہ ان کی لوکیشن ٹیلی کام کمپنیوں کے پاس جا رہی ہے۔
اس معاملے پر بھارتی وزارت داخلہ اور اسمارٹ فون کمپنیوں کے درمیان 5 دسمبر کو ایک اہم میٹنگ طے تھی، جو اب ملتوی کر دی گئی ہے۔ تجویز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس قدم سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ’’قومی سلامتی‘‘ کے معاملات میں مدد ملے گی اور شہریوں کو ’’شرپسند عناصر‘‘ سے محفوظ رکھا جا سکے گا۔
ٹیک کمپنیاں اور ماہرین کی شدید مخالفت
ایپل، گوگل اور سام سنگ نے اس منصوبے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے اسے فوری طور پر مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انڈیا سیلولر اینڈ الیکٹرونکس ایسوسی ایشن نے بھی حکومت کو لکھے ایک مراسلے میں خبردار کیا تھا کہ اس طرح کی لازمی ٹریکنگ کی مثال دنیا میں کہیں موجود نہیں، اور اس سے فوجی اہلکاروں، ججز، صحافیوں اور کارپوریٹ ایگزیکٹوز کی پرائیویسی بری طرح متاثر ہوگی۔
الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن (EFF) نے بھی اس تجویز کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر وقت فعال جی پی ایس کا مطلب یہ ہوگا کہ فون کمپنیاں اور ریاستی ادارے ہر شہری کی درست لوکیشن ہر لمحے جان سکیں گے—اور وہ بھی قانونی عمل کے بغیر۔
EFF کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ شہریوں کی بنیادی پرائیویسی کے لیے شدید خطرہ ہے اور انہیں مسلسل نگرانی کے ماحول میں دھکیل دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسمارٹ فون

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی