موبائل زیادہ پکڑنے سے اسمارٹ فون پنکی کا مسئلہ بڑھنے لگا، طبی ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: دنیا بھر میں اسمارٹ فون کے زیادہ استعمال نے ایک نئی علامت کو جنم دیا ہے جسے اسمارٹ فون پنکی کہا جا رہا ہے, یہ اُس وقت ہوتا ہے جب لوگ لمبے وقت تک موبائل کو ایک ہی ہاتھ سے پکڑتے ہیں، جس کی وجہ سے بِنصر (چوتھی انگلی) پر ہلکی سی گڑھائی یا نشان بن جاتا ہے۔
طبی رپورٹس کے مطابق آج کے اسمارٹ فون پہلے کے مقابلے میں بڑے اور بھاری ہو گئے ہیں، اس لیے انہیں پکڑتے وقت انگلیوں پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے، دنیا بھر میں بہت سے صارفین نے بتا یا ہے کہ ان کے بنصر میں ایک واضح نشان یا ہلکا سا خم بن گیا ہے جو فون کو دیر تک پکڑنے کے باعث ہوتا ہے۔
ایک نئی تحقیق میں 500 افراد سے سوالات کیے گئے، تقریباً نصف لوگوں نے کہا کہ وہ روزانہ 5 سے 8 گھنٹے موبائل استعمال کرتے ہیں، تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ تقریباً 66 فیصد افراد موبائل غلط طریقے سے پکڑتے ہیں جس سے بِنصر پر دباؤ بڑھتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ابھی تک کوئی باقاعدہ بیماری نہیں مگر اگر فون مسلسل ایک ہاتھ میں پکڑا جائے تو انگلیوں اور کلائی میں درد، سوجن، کمزور گرفت اور اعصاب پر دباؤ جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ موبائل استعمال کرتے وقت دونوں ہاتھوں کا استعمال کیا جائے تاکہ وزن برابر تقسیم ہو سکے۔ اس کے علاوہ موبائل ہولڈر یا اسٹینڈ کا استعمال ہاتھوں کو دباؤ سے بچاتا ہے۔ وقفے وقفے سے ہاتھوں کو آرام دینا اور انگلیوں کی ہلکی ورزش بھی فائدہ مند ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسمارٹ فون
پڑھیں:
پانی کا دباؤ بڑھ گیا،چنیوٹ میں شگاف پڑنے سےکئی ایکڑ فصلیں متاثر
دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کے باعث تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جبکہ چنیوٹ میں سیم نہر میں 50 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے متعدد فصلیں زیر آب آگئیں۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق تریموں ہیڈ ورکس پر دریائے چناب میں پانی کی آمد ایک لاکھ 48 ہزار 650 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 36 ہزار 50 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے لیے چار فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔دوسری جانب، چنیوٹ میں جھنگ روڈ بائی پاس کے قریب کانجو موڑ پر سیم نہر میں تقریباً 50 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، جس کے نتیجے میں کئی ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں زیر آب آ گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث نہر میں پانی کا دباؤ بڑھا، جس سے شگاف پیدا ہوا۔ اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موقع پر پہنچ گئے، جبکہ نہر کے شگاف کو پر کرنے اور مزید نقصان سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی جاری ہے۔ادھر ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دریاوں کا بہاؤ مستحکم رہا۔ دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ تربیلا 3 لاکھ 42 ہزار، کالا باغ 3 لاکھ 9 ہزار اور چشمہ میں 2 لاکھ 93ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی ہو رہی ہے جس کے بعد سیلابی صورتحال اونچے سے درمیانے درجے پر آگئی ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے دجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ مرالہ کی مقام پر پانی کا بہؤ 2 لاکھ 8 ہزار، خانکی کے مقام پر 1 لاکھ 65 ہزار اور قادر آباد کے مقام پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 90 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 83 ہزار کیوسک ہے جبکہ جسڑ، شاہدرہ اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بہاؤ بھی نارمل ہے۔ نارروال نالہ بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ ارا کینٹ بریج ناکہ ایک میں نچلے درجے اور وزیر آباد نالہ ایک میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ دوسری جانب، دریائے ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں کے سبب دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، دریائے چناب کے اپر کیچمنٹس میں بارشیں رک چکی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں سے دریائے چناب میں بہاؤ مستحکم ہو چکا ہے۔ ڈی جی نے ہدایت کی کہ دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، حکومت پنجاب کی جانب سے ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انتظامات مکمل ہیں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ موسم و سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں