کیا پی ٹی آئی کارکنان کی عمران خان کی رہائی کے لیے کوششیں کمزور پڑ گئی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے پی ٹی آئی قیادت، عمران خان کی بہنیں، قانونی ٹیم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی متعدد بار اڈیالہ جیل جا چکے ہیں، تاہم ان کی ملاقات نہیں ہو سکی۔ عمران خان کی قانونی ٹیم سے آخری ملاقات 16 اکتوبر کو ہوئی تھی، جس کے بعد صرف عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کو 4 نومبر کو ملاقات کی اجازت ملی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کوششیںوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی منتخب ہونے کے بعد عمران خان سے ملاقات کے لیے 8 مرتبہ اڈیالہ جیل پہنچ چکے ہیں لیکن ان کی ایک بار بھی ملاقات نہیں ہو سکی۔ ملاقات نہ ہونے کے باعث عمران خان کی بہنیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی قیادت و اپوزیشن رہنما اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہتے ہیں، لیکن گھنٹوں دھرنے کے باوجود ملاقات ممکن نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی اڈیالہ کا مجاور ہے، عظمیٰ بخاری وزیر اطلاعات پنجاب
اس دوران کارکنان سامنے نظر نہیں آتے؛ وہ چند منٹ کے لیے تو آتے ہیں، لیکن طویل دھرنوں میں صرف عمران خان کی بہنیں اور وزیراعلیٰ ہی نظر آتے ہیں۔
وی نیوز نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ کیا تاکہ یہ جانا جا سکے کہ دھرنوں میں صرف قائدین اور عمران خان کی بہنیں کیوں ہوتی ہیں؟ کارکنان کیوں متحرک نظر نہیں آتے؟
کارکنان کو کال ہی نہیں دی گئی، لطیف کھوسہپی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ابھی تک کارکنان کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی باضابطہ کال نہیں دی، اس لیے کارکنان کی کم تعداد کو ناکامی قرار دینا قبل از وقت ہے۔ جب بھی پارٹی کال دے گی تو کارکنان بڑی تعداد میں آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور کابینہ ہونے کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کہہ چکے ہیں کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کرانا حکومت کے اختیار میں نہیں ہے۔
کارکنان کو منع کیا جاتا ہے، شاہد خٹکپی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان رہنماؤں سے ملاقات کی کوششوں میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں، لیکن رہنما انہیں منع کرتے ہیں کیونکہ اڈیالہ جیل کے باہر کارکنان پر تشدد بھی ہوتا ہے اور گرفتاریاں بھی۔ پی ٹی آئی نہیں چاہتی کہ کارکنان کو بلا وجہ گرفتار کرایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی میں دھرنا ختم، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آج پھر ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے
انہوں نے کہا کہ پارٹی کو خدشہ ہے کہ اگر کارکنان بڑی تعداد میں جمع ہوئے تو کوئی شرارت کر سکتا ہے، جس سے دوبارہ کوئی 9 مئی جیسے واقعے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، اسی لیے پارٹی انتہائی محتاط حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔
صرف ارکان اسمبلی کو بلایا جاتا ہےشاہد خٹک کے مطابق عمران خان سے ملاقات کے دن صرف ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو اڈیالہ جیل آنے کی ہدایت کی جاتی ہے کیونکہ پولیس ارکان اسمبلی کو گرفتار نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی ایک مرتبہ کارکنان کو کال دے دے تو اڈیالہ جیل کے اطراف بھر جائیں گے، لیکن پی ٹی آئی کسی بھی شرپسند کو موقع فراہم نہیں کرنا چاہتی۔
سہیل آفریدی کا دھرنا اور آئندہ لائحہ عملوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا لیکن ملاقات نہ ہو سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے خلاف وہ پہلے ہی ہائی کورٹ سے رجوع کر چکے ہیں۔ اگر منگل کو بھی ملاقات نہ کرائی گئی تو ممکن ہے کہ وہ کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ جیل آئیں۔
پارٹی کی خاموشی اور سیاسی سوالاتوزیراعلیٰ کے اس اعلان کے باوجود پی ٹی آئی کی جانب سے کارکنان کو متحرک کرنے کی کوئی باضابطہ ہدایت جاری نہیں کی گئی۔ اسی لیے سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آیا واقعی پارٹی کو کارکنان کو جمع کرنے میں مشکلات ہیں یا یہ صرف حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بانی پی ٹی آئی شاہد خٹک عمران خان لطیف کھوسہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل بانی پی ٹی ا ئی شاہد خٹک لطیف کھوسہ عمران خان سے ملاقات عمران خان کی بہنیں خیبر پختونخوا اڈیالہ جیل کے سہیل آفریدی کارکنان کو پی ٹی آئی شاہد خٹک چکے ہیں کے لیے ہو سکی کہا کہ
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔