کوہستان مالیاتی سکینڈل، بینک ملازم کے اکائو نٹ میں 55 ملین کی ٹرانزیکشن کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پشاور(آئی این پی )کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران بینک ملازم کے اکائونٹ میں 55 ملین کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا ہے۔احتساب عدالت میں اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں گرفتار نجی بینک کے ملازم خالد احمد کو پیش کیا گیا، جہاں احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے ملزم کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔عدالت میں سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے ملزم سے متعلق ابتدائی پیشرفت عدالت کے روبرو پیش کی۔تفتیشی افسر کے مطابق ملزم خالد احمد کا تعلق اپر کوہستان سے ہے اور وہ ایک نجی بینک کی داسو برانچ میں ملازم ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ایک نجی کنسٹرکشن کمپنی کے نام پر بینک اکانٹ کھول رکھا تھا، جس کے ذریعے مبینہ طور پر مشکوک لین دین کی گئی، جس سے کیس میں نئے شواہد سامنے آئے۔عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ملزم کے کھولے گئے اکائو نٹ میں 55 ملین روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے۔ تفتیشی افسر نے مزید بتایا کہ ملزم کو تفتیش کے لئے متعدد مرتبہ طلب کیا گیا، تاہم وہ جان بوجھ کر تحقیقات میں شامل نہیں ہوا اور اس سلسلے میں مسلسل تعطل پیدا کرتا رہا، جس سے معاملہ مزید مشکوک ہوگیا۔تفتیشی افسر کے مطابق ملزم کو گزشتہ روز حراست میں لیا گیا، جب کہ موقف اختیار کیا گیا کہ کیس میں مزید اہم پہلوں پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس وجہ سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ ملزم کو جسمانی ریمانڈ پر حوالے کیا جائے تاکہ تفتیش مکمل کی جاسکے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے پی میں غیر قانونی مائینگ سکینڈل میں ملوث ٹھیکیدار کے اثاثے منجمند
نیب پراسیکوٹر نے بتایا کہ ملزم زرگل خان ٹھیکیدار ہے، ملزم نے دیگر ساتھیوں سے ملکر کاکول کے گزارہ جنگلات میں غیر قانونی مائنگ کی۔ ملزم کا غیر قانونی مائننگ کے پیچھے مرکزی کردار ہے۔ اسلام ٹائمز۔ احتساب عدالت میں غیر قانونی مائینگ سکینڈل میں ملوث ٹھیکیدار کے اثاثے منجمند کرنے کے لیے نیب کی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق درخواست پر سماعت احتساب جج حامد مغل نے کی جس کے دوران سینئر پراسیکوٹر نیب حبیب اللہ بیگ پیش ہوئے۔ عدالت نے ملزم کی کروڑوں روپے کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ نیب پراسیکوٹر نے بتایا کہ ملزم زرگل خان ٹھیکیدار ہے، ملزم نے دیگر ساتھیوں سے ملکر کاکول کے گزارہ جنگلات میں غیر قانونی مائنگ کی۔ ملزم کا غیر قانونی مائننگ کے پیچھے مرکزی کردار ہے۔
مزید برآں ملزم نے 2010 سے جولائی 2025 تک ایک لاکھ 41 ہزار 869 میٹرک ٹن فاسفیٹ نکالا۔ ملزم نے قومی خزانے کو 643.700 ملین روپے نقصان پہنچایا۔ تحقیقات کے دوران ملزم کے منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے شواہد بھی ملے ہیں۔ ملزم کے نام پر ایبٹ آباد میں مختلف آٹھ جگہوں پر پلاٹس نکل آئے ہیں ، ملزم کے نام تین قیمتی گاڑیاں بھی رجسٹرڈ ہیں۔ درخواست میں استدعا کی گئی ملزم کے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 اور نیب آرڈیننس کے تحت اثاثے منجمد کیے جائیں جائے۔ عدالت نے ملزم کی مذکورہ جائیداد اور اثاثے منجمند کرنے کا حکم دیدیا۔