یہ ایپس آپ کے اسمارٹ فون کی بیٹری تیزی سے ختم کر سکتی ہیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد :اسمارٹ فون کی بیٹری جلد ختم ہونے کی شکایات آج کل بہت عام ہیں اور زیادہ تر صورتوں میں اس کی وجہ وہ ایپس ہوتی ہیں جو پسِ منظر میں خاموشی سے چلتی رہتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ جاننا کہ کون سی ایپس بیٹری سب سے زیادہ استعمال کر رہی ہیں، ڈیوائس کی کارکردگی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اینڈرائیڈ فون صارفین کے لیے ہدایت ہے کہ سیٹنگز میں جائیں، بیٹری کے آپشن کو کھولیں اور بیٹری یوز ایج میں دیکھیں کہ کون سی ایپس سب سے زیادہ بیٹری استعمال کر رہی ہیں، اسی طرح آئی فون میں بھی سیٹنگز کے بیٹری سیکشن میں ہر ایپ کی استعمال شدہ بیٹری واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
عام طور پر فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ، گوگل میپس اور یوٹیوب وہ ایپس ہیں جو بیٹری زیادہ ختم کرتی ہیں کیونکہ یہ ایپس مسلسل اپ ڈیٹ ہوتی رہتی ہیں اور پسِ منظر میں انٹرنیٹ کے ساتھ متحرک رہتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بیٹری کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ان ایپس کی غیر ضروری پرمیشنز بند کی جا سکتی ہیں اور نوٹیفکیشنز کو آف کرنے سے بھی بیٹری دیر تک چلتی ہے۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے فون کی بیٹری یوز اور ایپس پر نظر رکھیں تاکہ ڈیوائس کی کارکردگی اور بیٹری لائف زیادہ دیر برقرار رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔