5 سے 10 سال میں جنگ ناگزیر ہے: ایلون مسک کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔
ایک مختصر مگر چونکا دینے والی ٹویٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ پانچ سال یا زیادہ سے زیادہ دس سال میں جنگ ناگزیر ہے، اس مبہم بیان نے سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کا طوفان برپا کردیا۔
یہ بحث اُس وقت شروع ہوئی جب ایک ایکس صارف ہنٹر ایش نے جوہری ہتھیاروں کے عالمی سیاسی رویوں پر اثرات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے باعث بڑی طاقتوں کے درمیان جنگ کا امکان ختم ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں حکومتیں کمزور اور ناقص ہوگئی ہیں۔
اسی گفتگو کے جواب میں ایلون مسک نے اچانک اپنی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ پانچ سال یا زیادہ سے زیادہ دس سال میں جنگ ناگزیر ہے۔
مسک نے نہ کسی مخصوص خطے کی نشاندہی کی، نہ وجوہات بتائیں، جس سے آن لائن صارفین میں بے چینی اور تجسس مزید بڑھ گیا۔
مسک کے بیان کو سمجھنے کے لیے صارفین نے ان کی کمپنی xAI کے چیٹ بوٹ گروک (Grok) سے سوال کیا۔
گروک نے یہ واضح کیا کہ مسک نے اس پوسٹ میں کوئی تفصیل نہیں دی، تاہم ان کے پچھلے بیانات کو سامنے رکھتے ہوئے چند ممکنہ عوامل کی نشاندہی کی۔
گروک نے کہا کہ مسک کے مطابق مستقبل میں خطرات صرف بین الاقوامی تنازعات تک محدود نہیں بلکہ داخلی خانہ جنگیوں یا سیاسی انتشار کی صورت میں بھی سامنے آسکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔