کراچی میں سردی بڑھ گئی؛ آئندہ 24 گھنٹوں میں موسم کیسا رہے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں سردی کی شدت بڑھ گئی ہے جب کہ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے موسم کی پیش گوئی بھی جاری کردی ہے۔
شہر قائد میں موسم مزید سرد ہونا شروع ہوگیا ہے، جب کہ آج سرکاری ویڈر اسٹیشن اولڈ ایئرپورٹ پر کم سے کم پارہ 12.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے کم درجہ حرارت جناح ٹرمینل پر نصب ویڈر اسٹیشن نے 8.
موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا۔ آج شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 12.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا، جب کہ کل کم سے کم درجہ حرارت 11 سے 13 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔
گزشتہ روز شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 28.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا جب کہ آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 28 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے۔
آج صبح کے وقت ہلکی دھند کے باعث حدِ نگاہ 3.5 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ شہر میں مختلف سمتوں سے 10 سے 30 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے جب کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ہوا میں نمی کا تناسب 10 سے 50 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ آئندہ 24 گھنٹوں ریکارڈ کی
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔