کوہستان مالیاتی اسکینڈل؛ نجی بینک ملازم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
پشاور:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں نجی بینک ملازم کے جسمانی ریمانڈ میں عدالت نے توسیع کردی۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں گرفتار نجی بینک ملازم کو آج احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں جج محمد ظفر نے ملزم کو تفتیش کے لیے مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔
دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم خالد احمد اپرکوہستان کا ہے ۔ ملزم داسو اپر کوہستان کے ایک نجی بینک میں ملازم ہے۔ ملزم نے ایک نجی کنسٹرکشن کمپنی کے نام پر اکاؤنٹ کھول دیا تھا ، جس میں 55 ملین روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے ۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کو تفتیش کے لیے کئی بار طلب کیا گیا لیکن تفتیش میں شامل نہیں ہوا ۔ ملزم قصداً تفتیش میں شامل نہیں ہورہا تھا ۔ جس کے بعد ملزم کو حراست میں لیا اور عدالت سے ملزم کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ۔ دوران تفتیش ملزم نے کچھ اہم انکشافات کیے ہیں ۔
عدالت سے استدعا کی گئی کہ ملزم سے مزید تفتیش کی ضرورت ہے، لہٰذا جسمانی ریمانڈ پر حوالے کیا جائے ۔ جس پرعدالت نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 7 دن کی توسیع کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔