اسلام آباد ہائیکورٹ جج کے بیٹے نے 2 لڑکیوں کو کچل دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251203-01-8
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک )وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد ہائیکورٹ جج محمد آصف کے کم عمربیٹے نے اسکوٹی پر جانے والی 2 کم عمر لڑکیوں کو کچل دیا، پولیس نے جج کے بیٹے ملزم ابوذر ولد محمد آصف کو گرفتار کرکے گاڑی تحویل میں لے لی، پولیس نے ملزم کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کرلیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کی تاریخ پیدائش جولائی 2009 ہے، ملزم کا ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں بنا ہوا۔ حادثے کے وقت ملزم سوشل میڈیا ایپ کے لیے وڈیو بنا رہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق و اقعہ گزشتہ رات تھانہ سیکرٹریٹ کی حدود میں پیش آیا، کم عمر ملزم انتہائی تیز رفتاری سے وی ایٹ گاڑی چلا رہا تھا، جس کی ٹکر سے دونوں لڑکیاں موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں جن کی عمریں 25 اور 27 برس ہیں۔ مرنے والی ایک لڑکی این سی اے میں انٹیریئر ڈیزائنر بتائی جاتی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق گاڑی انتہائی تیز رفتار تھی اور ٹکر اتنی شدید تھی کہ اسکوٹی کئی فٹ دور جا گری۔ مقدمہ میں279 (تیز اور لاپرواہ ڈرائیونگ)، 322 (غیر ارادی قتل) اور 427 (نقصان پہنچانے کی نیت سے شرارت) کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ حکام نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کیس کی تحقیقات میرٹ پر کی جائیں گی۔ دوسری جانب پولیس نے ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کردیا، پولیس نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم ابو زر ولد محمد آصف کا 7 دن کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے، عدالتی مجسٹریٹ شائستہ خان کندی نے پولیس کی درخواست پر 4 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ پولیس نے پرچہ ریمانڈ میں بتایا کہ ملزم کے پاس شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں، ملزم کا بیان ہے کہ اس کا شناختی کارڈ بنا ہوا ہے، ملزم کے مطابق وہ وقوعہ سے چند لمحے قبل اسنیپ چیٹ پر وڈیو بنا رہا تھا، ملزم نے وقوعہ کے فوری بعد موبائل فون کہیں پھینک دیا، ملزم سے موبائل فون برآمد کرانا ہے تاکہ اس میں بنائی گئی وڈیو چیک کی جا سکے، یہ بھی تعین کرنا ہے کہ وقوعہ کے وقت ملزم اکیلا تھا یا اس کے ساتھ کوئی اور بھی سوار تھا، عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ بھی کرانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پولیس نے
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔