اسلام آباد: اہم شخصیت کے کم عمر بیٹے کی کار سے ٹکر، 2 نوجوان لڑکیاں جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں اہم شخصیت کے کم عمر بیٹے کی کار کی ٹکر سے 2 لڑکیاں جاں بحق ہو گئیں۔
میڈیا ذرائع کے مطابق گزشتہ رات ایک دل خراش حادثے نے شہر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی، جہاں ایک کم عمر لڑکے کی تیز رفتار گاڑی کی زد میں آ کر الیکٹرک اسکوٹی پر سفر کرتی 2 نوجوان لڑکیاں موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
افسوس ناک واقعہ اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ کی حدود میں پیش آیا ۔ ابتدائی معلومات کے مطابق گاڑی V8 تھی، جو انتہائی رفتار سے آ کر اسکوٹی سے ٹکرائی اور لڑکیوں کو کئی فٹ دُور اچھال دیا۔ دونوں خواتین کی عمریں 25 اور 27 برس بتائی گئی ہیں، جن میں سے ایک کا تعلق نیشنل کالج آف آرٹس (NCA) سے تھا اور وہ انٹیریئر ڈیزائننگ کے شعبے سے وابستہ تھی۔
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کو قبضے میں لیا اور ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ گاڑی چلانے والا لڑکا ابو ذر، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ایک بااثر شخصیت کا بیٹا ہے۔ تفصیلات میں مزید پتا چلا کہ ملزم کی پیدائش جولائی 2009 میں ہوئی، یعنی قانونی اعتبار سے وہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کی عمر سے بھی کم ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت ملزم سوشل میڈیا ایپ پر ویڈیو ریکارڈ کر رہا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اچانک پیش آیا اور لڑکیوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ مقامی افراد نے حادثے کے بعد پولیس کو اطلاع دی اور امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر ضروری کارروائی کی۔
گرفتاری کے بعد ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعہ کے مکمل حقائق سامنے لانے کے لیے ملزم کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔
پولیس نے 7 روزہ ریمانڈ کی درخواست کی، تاہم عدالت نے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے تفتیشی ٹیم کو ہدایت کی کہ تمام شواہد اکٹھے کیے جائیں۔ پرچے میں بتایا گیا کہ ملزم نہ شناختی کارڈ رکھتا ہے اور نہ ڈرائیونگ لائسنس، اس کے باوجود وہ بھاری گاڑی چلاتا رہا، جو بذات خود ایک قانونی جرم ہے۔
تحقیقات کے مطابق ملزم نے حادثے کے بعد اپنا موبائل فون کہیں پھینک دیا تھا تاکہ اس میں موجود ویڈیو ڈیٹا محفوظ نہ رہے، تاہم پولیس نے کہا ہے کہ موبائل برآمد کرکے اس میں موجود ریکارڈنگ چیک کی جائے گی، کیونکہ یہ ویڈیو حادثے کے وقت کی صورتحال کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
پرچہ ریمانڈ میں مزید کہا گیا ہے کہ عمر کے تعین کے لیے ملزم کا میڈیکل ٹیسٹ بھی کرایا جائے گا، جبکہ اس بات کی بھی تصدیق کی جائے گی کہ حادثے کے وقت گاڑی میں وہ اکیلا تھا یا کوئی اور بھی موجود تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام آباد کے مطابق پولیس نے حادثے کے
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔