حادثے کی جگہ گلشن اقبال ٹائون کے دائرہ اختیار اور حدود سے دور ہے

جہاں واقعہ پیش آیا وہ گلشن اقبال ٹائون کا علاقہ نہیں ہے،خط کا متن

یوسی چیئرمین نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا خدشہ ظاہر کردیاتھا تھا،

اکتوبر میں کمیٹی میں 14 کھلے مین ہول پوائنٹس کی نشان دہی کی گئی تھی، دستاویز

 

کیا نیپا کے قریب گٹر میں معصوم بچے ابراہیم کے گرنے کے حادثے کا مقام گلشن اقبال ٹاؤن کی حدود میں آتا ہے؟

بلدیات کو لکھے گئے خط میں نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں بچے کے گٹر میں گرنے کے معاملے میں میونسپل کمشنر گلشن ٹاؤن نے محکمہ بلدیات سندھ کو خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ حادثے کی جگہ گلشن اقبال ٹاؤن کے دائرہ اختیار اور حدود سے دور ہے۔

خط کے متن کے مطابق جہاں واقعہ پیش آیا وہ گلشن اقبال ٹائون کا علاقہ نہیں ہے، یونیورسٹی روڈ کے ایم سی کے ماتحت سڑک ہے، سڑک اور ترقیاتی کام کے ایم سی کے زیر انتظام ہے، جب کہ سیوریج لائن واٹر بورڈ کی ذمہ داری ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن بی آر ٹی اور کے فور منصوبے کا کام جاری ہے، گلشن اقبال ٹائون نے واضح کیا کہ یہ حادثے کا مقام ان کے انتظامی دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال نے حادثے سے متعلق رپورٹ تیار کر لی ہے، یہ رپورٹ ٹی ایم سی کے میونسپل کمشنر نے تیار کی ہے جو محکمہ بلدیات کے ریجنل ڈائریکٹر کو بھی ارسال کر دی گئی ہے، اس رپورٹ میں ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کو حادثے سے بری الزمہ قرار دیا گیا ہے۔

ٹاؤن کے میونسپل کمشنر نے کہا کہ یہ رپورٹ دائرہ اختیار اور محکمانہ ذمہ داریوں کی تصدیق کے بعد تیار کی گئی ہے، واقعہ یونیورسٹی روڈ پر پیش آیا، جس کا تعلق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) سے ہے، یہ ٹی ایم سی گلشن اقبال، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے انتظامی کنٹرول میں نہیں آتا۔

رپورٹ کے مطابق بی آر ٹی پروجیکٹ اورفورکے پروجیکٹ فی الحال اس راہداری کے ساتھ زیر تکمیل ہیں، اور ان منصوبوں سے متعلق کام متعلقہ ایگزیکٹو ایجنسیاں انجام دے رہی ہیں۔ جب کہ علاقے میں سیوریج کی مین لائن (سسٹم) کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے دائرہ اختیار میں ہے۔

اس رپورٹ میں واضح کر دیا گیا ہے کہ واقعے کا تعلق ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال، ڈسٹرکٹ ایسٹ سے نہیں ہے، متعلقہ روڈ پر جاری ترقیاتی کام اور سیوریج کا بنیادی ڈھانچہ دوسرے محکمے کے کنٹرول میں آتا ہے۔

کھلے مین ہول کی شکایت 29 اکتوبر کو بی آر ٹی آفس میں منعقدہ میٹنگ میں یو سی ٹو گلشن اقبال ٹاؤن کے چیئرمین ریاض اظہر نے کی تھی، میٹنگ میں بی آر ٹی ٹیم، گلشن اقبال ٹاؤن کے نمائندوں کی ٹیم اور اے ڈی بی کی ٹیم کے افسران موجود تھے۔

میٹنگ پوائنٹس کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر جگہ جگہ کھلے مین ہولز پر ڈھکن لگانے اور رنگ سلیب لگانے کی درخواست کی گئی تھی، لیکن کمیٹی میں یو سی چیئرمین ریاض اظہر کی درخواست کو نظر انداز کیا گیا۔

دستاویز کے مطابق یوسی چیئرمین کی جانب سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا خدشہ ظاہر کر دیا گیا تھا، ذرائع کے مطابق اکتوبر میں کمیٹی میں 14 کھلے مین ہول پوائنٹس کی نشان دہی کی گئی تھی، ریاض اظہرنے کہا کہ ان شکایات پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا، بلکہ جواب دیا گیا کہ ٹھیکے دار نے مزید کام کرنے سے منع کر دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: گلشن اقبال ٹاؤن کے گلشن اقبال ٹائون کے دائرہ اختیار یونیورسٹی روڈ کے مطابق کھلے مین بی آر ٹی دیا گیا ایم سی روڈ پر گیا ہے کی گئی

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف