اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے سویلین اور ملٹری قیادت کے درمیان تعلقات میں دراڑ آنے کی قیاس آرائیوں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے دعوے ’’بے بنیاد‘‘ اور ’’گمراہ کن‘‘ ہیں۔سابق پرنسپل سیکریٹری ٹوُ پرائم منسٹر اور کابینہ میں قریبی مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ نے دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور کچھ سیاسی حلقوں میں زیر گردش اِن افواہوں میں کوئی صداقت نہیں کہ حکومت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر ایسی باتوں کو مسترد کیا کہ چیف آف آرمی اسٹاف / چیف آف ڈیفنس فورس (سی ڈی ایف) کے نوٹیفکیشن میں اختلافات کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سویلین اور ملٹری لیڈرشپ کے درمیان تعلقات میں کوئی دراڑ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں جانب ورکنگ ریلیشن شپ پرسکون اور مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ ڈاکٹر توقیر شاہ نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ نون لیگ کے رہنما اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بڑا احترام کرتے ہیں اور متعدد مواقع پر پیشہ ورانہ رویے، عزم اور قوم کی خدمت کیلئے وہ اُن کی تعریف بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، جس سے ان کی ادارہ جاتی ڈھانچے اور فوجی قیادت کیلئے مسلسل حمایت اور عزم کا اعادہ ہوتا ہے۔ کشیدہ تعلقات کے حوالے سے جاری تمام افواہوں اور نوٹیفکیشن میں ہونے والی تاخیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ محض شرارت ہیں اور افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قیاس آرائیوں پر مبنی بیانیے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ صرف کنفیوژن پھیلے وہ بھی اُس وقت جب استحکام اور اتحاد کی ضرورت ہو۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ منتخب حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان غیر معمولی طور پر ہم آہنگ تعلق موجود ہے، قومی ترجیحات اور مقاصد کے حصول کیلئے دونوں میں مکمل طور پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے، اور اس کے برعکس کوئی بھی بات بے بنیاد ہے۔

انصارعباسی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے درمیان انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا