Juraat:
2026-07-24@01:16:03 GMT

چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں ہوسکا

اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT

چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں ہوسکا

حکومت کی جانب سے 29/نومبر کی اہم ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہوسکا۔جس کے باعث کافی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

آرمی چیف کے منصب کے ساتھ یکجا کیا گیا یہ نیا عہدہ 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت تخلیق کیا گیا تھا اور اب ختم شدہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کی جگہ لے رہا ہے، سی جے سی ایس سی کا عہدہ 27 نومبر کو باضابطہ طور پر ختم ہوگیا تھا۔

ایک انگریزی اخبار میں شائع خبر کے مطابق سرکاری ذرائع اور مبصرین کو توقع تھی کہ سی ڈی ایف کا تقرر نامہ اسی موقع پر جاری کر دیا جائے گا۔ مگر تاحال ایسا نہیں ہو سکا۔

مبصرین کو توقع تھی کہ 29 نومبر کو تو یقیناً یہ تقرر نامہ جاری کر دیا جاتا کیونکہ یہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ابتدائی تین سالہ مدت ملازمت کے خاتمے کی تاریخ تھی۔

بعض قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر نیا نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو مدت ملازمت تکنیکی طور پر ختم سمجھی جا سکتی تھی، لیکن 2024 میں پاکستان آرمی ایکٹ میں کی گئی ترمیم کے بعد سروسز چیفس کی مدت ملازمت 5 سال کر دی گئی ہے، ترمیم میں شامل ’ڈیمنگ کلاز‘ کے مطابق یہ قانون ہمیشہ سے ایکٹ کا حصہ تصور ہوگا، اس لیے قانونی ماہرین کے مطابق آرمی چیف کی مدت بڑھانے کے لیے کسی نئے نوٹیفکیشن کی ضرورت ہی نہیں رہی، یوں ان کے نزدیک 29 نومبر کوئی قانونی حد نہیں تھی۔

چنانچہ متعدد سکیورٹی ذرائع نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ حکومت کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کو سی ڈی ایف کا منصب دینے کے لیے ایک نیا اور باضابطہ عوامی نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوگا، برخلاف اُن خاموش توسیع کے جو حال ہی میں پی اے ایف کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیرالدین بابر اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو دی گئیں۔

نوٹیفکیشن کے اجرا میں تاخیر کو حکومتی سطح پر جاری اختلافات کی نشانی قرار دیا جا رہا ہے، باخبر ذرائع کے مطابق اس وقت ایک اہم سوال یہ زیر غور ہے کہ آرمی چیف کی 5 سالہ مدت ملازمت کا آغاز کس تاریخ سے شمار کیا جائے، نومبر 2022 سے جب فیلڈ مارشل منیر نے عہدہ سنبھالا، یا پھر نومبر 2025 سے، جیسا کہ نئی قانون سازی کے بعد عمومی طور پر تاثر پایا جاتا رہا ہے۔

ایک اور حساس مسئلہ یہ ہے کہ نیا سی ڈی ایف فضائیہ اور بحریہ پر عملی اور کمانڈ اختیار کس حد تک رکھے گا۔

اگرچہ حکومت نے رواں ماہ کے آغاز میں 27ویں ترمیم کو برق رفتاری کے ساتھ پارلیمان سے منظور کرایا، لیکن نوٹیفکیشن میں تاخیر نے فوجی قیادت کو مشکل صورت حال سے دوچار کر دیا ہے اور اعلیٰ دفاعی ڈھانچے کی نئی تشکیل کا عمل متاثر ہوا ہے۔

اسی کے ساتھ نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے سربراہ کی تقرری بھی التوا کا شکار ہے، یہ نیا چار ستارہ عہدہ اُس جوہری کمانڈ کی ذمہ داریاں سنبھالے گا جو پہلے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے پاس تھیں، حکام کا کہنا ہے کہ یہ تقرری بھی سی ڈی ایف کے باضابطہ اعلامیے کے بعد ہی کی جائے گی۔

ادھر نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) ایکٹ میں مزید ترامیم کی ضرورت باقی ہے تاکہ سی جے سی ایس سی کے خاتمے اور سی ڈی ایف اور این ایس سی کمانڈر کے نئے ڈھانچے کو آرٹیکل 243 کے تحت شامل کیا جا سکے۔

یہ عمل خاصا پیچیدہ ہوگا، خصوصاً اس حوالے سے کہ فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان کی این سی اے میں مستقبل کی نمائندگی کیا ہوگی، اور جب ان کی اسٹریٹجک کمانڈز کو ایک متحدہ این ایس سی کمانڈر کے ماتحت کردیا جائے گا تو اُن کا ادارہ جاتی کردار کس شکل میں برقرار رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: مدت ملازمت سی ڈی ایف کے مطابق آرمی چیف ایس سی

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار