چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کا عمل شروع ہو چکا،قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس معاملے پر مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ نوٹیفکیشن مناسب وقت پر جاری کر دیا جائے گا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن سے متعلق مزید کسی قسم کے اندازوں کی گنجائش نہیں رہی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف جلد وطن واپس آرہے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے رواں ماہ 13 نومبر کو 27ویں آئینی ترمیم پر دستخط کرکے اسے پاکستان کے آئین کا حصہ بنایا تھا، جس کے بعد ملک کے 2 اہم اداروں، افواج پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کے انتظامات میں تبدیلیاں آئیں۔
مزید پڑھیں:چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ کس کو تفویض کیا جائیگا؟ 27ویں آئینی ترمیم کامسودہ سامنے آگیا
27ویں ترمیم کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے ختم کرکے ان کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ قائم کیا گیا، جو آرمی چیف کا نیا نام ہوگا اور اسی عہدے کے تحت جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی ذمہ داریاں بھی آئیں گی۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ماضی میں مسلح افواج میں سب سے بڑا سمجھا جاتا تھا، لیکن زیادہ تر علامتی نوعیت کا تھا۔ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں تاریخی کامیابی کے بعد جنرل سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ نئی ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل کا عہدہ اور مراعات آئینی طور پر واضح کر دی گئی ہیں۔
جنرل سید عاصم منیر نے نومبر 2022 میں آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تھا، جس کی مدت 3 برس تھی۔ ترمیم کے بعد تینوں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت بڑھا کر 5 برس کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:’فیلڈ مارشل کی چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی کے نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی مدت ملازمت کا آغاز ہوگا‘
آرمی چیف کے عہدے کو چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کی مدت 5 برس ہوگی اور یہ مدت نوٹیفیکیشن کے اجرا سے شروع ہوگی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نومبر 2030 تک چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے پر فائز رہیں گے، جبکہ ان کا فیلڈ مارشل کا عہدہ تاحیات ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیف آف ڈیفنس فورسز کے کے نوٹیفکیشن فیلڈ مارشل کا عہدہ کے عہدے کے بعد
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔