وائٹ ہاؤس لاک ڈاؤن کر دیا گیا، واشنگٹن میں مزید 500 فوجی تعینات، سیکیورٹی ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
واشنگٹن:
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے باہر نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں کو نشانہ بنانے والی فائرنگ کے بعد شہر میں شدید سیکیورٹی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
امریکی سیکیورٹی اداروں کی ہنگامی پریس بریفنگ میں مزید 500 فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا گیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کو مکمل طور پر لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے بتایا کہ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براہِ راست ہدایت پر اٹھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اور ہم واشنگٹن کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھا رہے ہیں۔
ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل نے پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ وائٹ ہاؤس کے باہر دو نیشنل گارڈ اہلکاروں کو فائرنگ کر کے زخمی کیا گیا اور دونوں کی حالت تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے گھات لگا کر حملہ کیا، سیکیورٹی اہلکاروں نے بہادری سے ان کا مقابلہ کیا۔
کاش پٹیل نے مزید کہا کہ ملزم کو حراست میں لیا جا چکا ہے اور اس وقت واشنگٹن میں کوئی دوسرا مشتبہ شخص نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وائٹ ہاؤس
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔