امریکا، وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز پر فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی دارالحکومت میں وائٹ ہاؤس کے چند ہی قدموں کے فاصلے پر پیش آنے والے فائرنگ کے دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے واشنگٹن کو ہلا کر رکھ دیا۔
نیشنل گارڈ کے دو اہلکار اس حملے میں موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا۔
National Guard shot near the White House at a little before 2:15.
I was in an Uber to work, with my cameraman, and heard multiple shots fired as we passed Farragut West.
A member of the National Guard fell while others rushed onto the scene.
Area still on lockdown and… pic.twitter.com/A4wKORrEZg — Mari Otsu (@marisotsu) November 26, 2025
واقعے کے فوراً بعد پورا علاقہ پولیس اہلکاروں اور سیکیورٹی فورسز سے بھر گیا۔ وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر بند کردیا گیا، جب کہ اطراف کے علاقے خصوصاً آئی اسٹریٹ کو سیل کر کے شہریوں کو دور رہنے کی ہدایت جاری کی گئی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کو فوری طور پر واقعے کی مکمل بریفنگ دے دی گئی ہے اور وہ لمحہ بہ لمحہ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی نے بھی تصدیق کی ہے کہ مختلف ایجنسیاں مل کر واقعے سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/115617866419112089صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے حملہ آور کو جانور قرار دیا اور کہا کہ نیشنل گارڈ پر حملہ کرنے والا بھاری قیمت چکائے گا۔
رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر بھی پروازوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا، تاہم چند گھنٹوں بعد معمول کی کارروائیاں بحال کر دی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وائٹ ہاؤس
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔