کراچی کے بلڈر کو ہراساں اور 2 کروڑ روپے رشوت مانگنے ایف آئی اے افسران و اہلکاروں کیخلاف گھیرا تنگ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
شہر قائد میں تعمیراتی کام سے منسلک بلڈر سے مبینہ طور پر رشوت طلب کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) افسران اور اہلکاروں کیخلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹرجنوبی مجاہد اکبرخان کی ہدایت پر شہرکے بلڈر کی جانب سے افسران کی جانب سےبھاری رقم طلب کرنے کے معاملے پر انکوائری شروع کردی گئی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائےگا جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرذیشان افضل انکوائری کے بعد رپورٹ پیش کرینگے۔
واضح رہے کہ فرحان نامی بلڈرنےایف آئی اے کے افسران پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے ان کے دفتر پر چھاپہ مارنے کے بعد حوالہ ہنڈی کے تناظر میں ان سے نے2 کروڑ روپے بطور رشوت مانگےتھے اور رقم نہ دینے کی صورت حوالہ ہنڈی کا مقدمہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔
متاثرہ بلڈر نے ڈی جی ایف آئی اے کوخط لکھ کر اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے آگاہ کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔