اداکار دھرمیندر ایک مضبوط خاندانی ورثہ اور اربوں کی دولت چھوڑ گئے
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
دھرمیندر کی مجموعی دولت کا اندازہ 335 کروڑ سے 450 کروڑ روپے کے درمیان لگایا جاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالی ووڈ کے لیجنڈری اداکار دھرمیندر 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، وہ اپنے پیچھے 6 دہائیوں پر محیط شاندار فنی سفر، ایک مضبوط خاندانی ورثہ اور اربوں روپے کی دولت چھوڑ کر گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ہی مین کے نام سے مشہور اداکار دھرمندر کے خاندان کا بھارتی فلم انڈسٹری کے بااثر فلمی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔دھرمندر کا تعلق پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے گاں نصرالی سے تھا،
اِن کے والد کیول کرشن سنگھ دیول ایک اسکول ٹیچر اور والدہ ستونت کور گھریلو خاتون تھیں۔1954 میں محض 19 سال کی عمر میں دھرمندر نے پرکاش کور سے شادی کی، اس شادی سے اِن کے چار بچے ہیں۔ سنی دیول، بوبی دیول، وجیتا دیول اور اجیتا دیول۔
1980 میں دھرمندر نے اداکارہ ہیمامالنی سے شادی کی جن کے ساتھ انہوں نے متعدد سپرہٹ فلمیں بھی کیں۔ اس رشتے پر کافی تنازعات نے جنم لیا کیونکہ دھرمندر قانونی طور پر پرکاش کور کے شوہر ہی تھے لیکن اِن کی ہیما مالنی کے ساتھ بھی شادی برقرار رہی اور دونوں کی دو بیٹیاں ہیں۔
ہیمامالنی اور اِن کی بیٹیاں ممبئی میں الگ رہتی ہیں جبکہ دھرمندر زیادہ تر اپنے پہلے خاندان کے ساتھ رہتے تھے تاہم دونوں خاندانوں میں ہمیشہ احترام کا تعلق برقرار رہا۔ سرمایہ کاری اور مالی نظم و ضبط نے دھرمیندر کو ایک مضبوط مالی حیثیت دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دھرمیندر کی مجموعی دولت کا اندازہ 335 کروڑ سے 450 کروڑ روپے کے درمیان لگایا جاتا ہے۔ دیول خاندان کی مجموعی دولت 1000 کروڑ روپے سے زائد سمجھی جاتی ہے جو اِنہیں بھارتی فلمی دنیا کے طاقتور ترین خاندانوں میں شامل کرتی ہے۔
واضح رہے کہ 89 سالہ معروف اداکار دھرمیندر گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے، اِنہیں سانس سے متعلق شدید تکلیف کے باعث دوبارہ اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں انہوں نے آخری سانس لی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ جون 2026 میں بجلی صارفین کو 20 پیسے فی یونٹ ریلیف ملے گا۔ ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت اگرچہ 1.73 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود مجموعی طور پر صارفین کو بجلی سستی فراہم کی جا رہی ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق جون 2026 میں بجلی کے نرخ جنوری تا مئی 2026 کی سطح پر ہی برقرار رہیں گے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق اس فیصلے سے صارفین پر کسی بڑے اضافی بوجھ کو منتقل نہیں ہونے دیا گیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ حکومت نے مؤثر حکمت عملی کے ذریعے صارفین کو 38 ارب روپے کے ممکنہ اضافی بوجھ سے بچایا ہے جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 65 ارب روپے کا ریلیف براہِ راست صارفین کے حق میں منتقل کیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن کا مزید کہنا ہے کہ مجموعی اقدامات کے نتیجے میں بجلی نرخوں میں بڑا اضافہ ٹل گیا ہے اور صارفین کو وقتی طور پر ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں۔اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری