جموں، ”کشمیر ٹائمز“ کے دفتر پر ایس آئی اے کا چھاپہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
ذرائع کے مطابق ایس آئی اے نے اخبار کی ایگزیکٹو ایڈیٹر اور ممتاز کشمیری صحافی اور مصنفہ انورادھا بھسین کے خلاف حق خودارادیت کے مطالبے اور بھارت مخالف سرگرمیوں کے سلسلے میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نئی دلی کے زیر کنٹرول تحقیقاتی ادارے ”سٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی“ ( ایس آئی اے ) نے معروف انگریزی اخبار "کشمیر ٹائمز" کے دفتر پر چھاپہ مارا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایس آئی اے نے اخبار کی ایگزیکٹو ایڈیٹر اور ممتاز کشمیری صحافی اور مصنفہ انورادھا بھسین کے خلاف حق خودارادیت کے مطالبے اور بھارت مخالف سرگرمیوں کے سلسلے میں مقدمہ درج کرایا ہے۔ ان پر مقبوضہ علاقے میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی ناانصافیوں کے بارے میں رپورٹس شائع کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ انورادھا بھسین بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت کی کشمیری دشمن پالیسیوں کی سخت ناقد ہیں۔ انہوں نے اگست 2019ء میں 370 اور 35اے دفعات کی غیر قانونی منسوخی پر بھی مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایس آئی اے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔