ابھی تو شروعات ہے، مزید استعفے آئیں گے، فیصل واوڈا
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ ابھی تو شروعات ہے جو استعفے آئے وہ فوری منظور ہوں گے۔ مزید استعفے آئیں گے، وہ بھی فوری منظور کیے جائیں گے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ جس ہلچل کا ذکر پچھلے تین چار دن سے کر رہے تھے، چائے کی پیالی میں وہ طوفان لانے کی کوشش ناکام ہوگئی۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ استعفے دے کر کسی نے کوئی تیر نہیں چلایا، ویسے بھی سروس میں وقت کم ہی بچا تھا۔ یہ لفظ یاد رکھیں کہ اب پراکسیز کا حساب ہوگا۔ قوم کو سمجھ آگئی ہوگی کہ کون کس پارٹی کا سہولت کار تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیصل واوڈا
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔