نوکری کے ساتھ نخرا نہیں چلے گا فیصل واوڈا نے ایڈوانس مٹھائی کھلا دی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) سینیٹر فیصل واوڈا پارلیمنٹ ہاؤس میں 27ویں ترمیم کی منظوری کے لیے ایڈوانس میں مٹھائی لے آئے۔ فیصل واوڈا کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کو مٹھائی کھلائی گئی۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ آپ 27ویں ترمیم کی مٹھائی کھائیں اور 28 ویں کی تیاری کریں۔ 27 ویں ترمیم منظوری ہو چکی ہے۔ جمہوری روایات کی پاسداری کر رہے ہیں۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ میں ایڈوانس مٹھائی کھانے آیا ہوں۔ نوکری کے ساتھ نخرا نہیں چلے گا۔ ڈیفنس لائن کو مزید ہم نے مضبوط کرنا ہے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ کسی بھی جماعت نے آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم پر کوئی اعتراض نہیں کیا کیونکہ یہ پاکستان کی سلامتی کیلئے تھی، پی ٹی آئی نے مدد کی، پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے رکن نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔پہلے ہی کہا تھا آسانی سے ترمیم پاس ہو جائے گی۔ ہمارے پاس 4 نمبر اضافی تھے۔ اٹھائیسویں ترمیم میں 64 سے زیادہ ارکان ہوں گے۔ پوری تحریک انصاف حکومت اور پاکستان کے ساتھ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :