کراچی:کورنگی میں اسٹیٹ ایجنسی میں جھگڑے کے دوران فائرنگ، 2 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے علاقے کورنگی زمان ٹاؤن میں اسٹیٹ ایجنسی کے دفتر میں جھگڑا سنگین صورت اختیار کر گیا، جس کے دوران فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوگیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔
ایس ایس پی کورنگی طارق نواز کے مطابق واقعہ کورنگی زمان ٹاؤن سیکٹر 51-سی میں پیش آیا جہاں جائیداد کے لین دین کے معاملے پر دو گروپوں میں تلخ کلامی کے بعد فائرنگ ہوگئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم دو افراد دورانِ علاج دم توڑ گئے۔
پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ابتدائی تفتیش شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کی وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے اور ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی کورنگی سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تفتیش کی جائے اور ذمہ داروں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔