Daily Mumtaz:
2026-06-03@02:39:26 GMT
تامل فلموں کے معروف اداکار ابھینے 44 سال کی عمر میں چل بسے
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
تامل فلم انڈسٹری کے معروف اداکار ابھینے آج صبح چنئی میں 44 سال کی عمر اپنے گھر پر چل بسے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ابھینے کافی عرصے سے جگر کے عارضے میں مبتلا تھے اور مالی مشکلات کے باعث اپنی خراب صحت کے باوجود کام کر رہے تھے۔ وہ اکیلے رہتے تھے۔
ابھینے نے اپنے کیریئر کا آغاز 2002 میں ریلیز ہونے والی فلم “تھلّو واد ھو ایلا مائی” سے کیا تھا، جو دھنوش کے بھائی سیلورا گھون نے لکھی تھی یہ فلم چھ اسکول کے طلبہ کی زندگیوں پر مبنی تھی اور اس نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی۔
ابھینے نے بعد میں کئی تمل اور ملیالم فلموں میں اداکاری کی، تاہم 2014 کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہوں نے وقفہ لے لیا۔ وہ ایک عرصے تک ڈبنگ آرٹسٹ کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔