ڈھائی لاکھ افراد کے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کا انکشاف، زیادہ تر افغان شہری نکلے
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
خصوصی سافٹ ویئر کے ذریعے ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کے شناختی کارڈ جعلی ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جعلی شناختی کارڈ رکھنے والوں میں زیادہ تعداد افغان باشندوں کی نکلی۔ذرائع کے مطابق ملک میں مقیم غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہوگیا، جعلی پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے افغانی نادرا کے نشانے پر آگئے اور ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کا انکشاف ہوا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ خصوصی سافٹ ویئر کے ذریعے مشکوک شناختی کارڈز کی نشاندہی کی گئی، سافٹ ویئر نے فیملی ٹری کی کمپوزیشن دیکھ کر مشکوک افراد کی نشاندہی کی، جعلی شناختی کارڈ رکھنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد افغان باشندوں کی نکلی۔
مذکورہ افغانیوں کو پشین، چمن اور کوئٹہ میں مقیم پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں شامل کیا گیا، شہریوں کی لاعلمی کی باعث بڑی تعداد میں غیرملکیوں کو فیملی ٹری میں ڈالا گیا، ایجنٹس نے بھاری رقوم کے عوض افغان باشندوں کو پاکستانی فیملی ٹری میں شامل کرایا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان باشندوں کے جعلی شناختی کارڈ خودکار طریقے سے بلاک ہونا بھی شروع ہوگئے ہیں اور تمام بلاک شدہ شناختی کارڈ رکھنے والوں کو نادرا دفتر جاکر تصدیق کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ مقررہ مدت کے بعد تصدیق نہ کرانے والے شناختی کارڈز کو منسوخ کردیا جائے گا۔اسلام آباد میں تھانہ سبزی منڈی کے مختلف علاقوں میں گرینڈ سرچ اینڈ کومنگ آپریشن جاری ہے، ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد محمد شعیب خان کی سربراہی میں آپریشن کیا گیا۔سرچ آپریشن میں ایس پی صدر زون ، ایس پی انڈسٹریل ایر یا زون ، ایس ڈی پی او شہزاد ٹاؤن سرکل اور دیگر پولیس افسران نے بھی حصہ لیا۔کیپٹل پولیس کے مطابق آپریشن سے قبل نفری کو آپریشن کے متعلق بریفنگ دی گئی، سرچ آپریشن کے دوران 221 افراد اور 65 دکانوں کو چیک کیا گیا۔سرچ آپریشن کے دوران 43 موٹر سائیکلوں اور 31 گاڑیوں کو چیک کیا گیا۔ دوران سرچ آپریشن غیر قانونی طور پر مقیم 69 افغانیوں کو تھانہ شفٹ کیا گیا، آپریشن کا مقصد علاقہ میں جرائم کا سدباب کرنا ہے۔آئی جی اسلام آباد نے جرائم کی بیخ کنی کے لئے ضلع بھر میں گرینڈ سرچ آپریشنز کے احکامات جاری کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شناختی کارڈ رکھنے افغان باشندوں فیملی ٹری کیا گیا
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔