کیا فارم 47 کی پیداوار حکومت آئینی ترمیم کا اختیار رکھتی ہے؟ لطیف کھوسہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
قومی اسمبلی کے اجلاس میں سابق گورنر پنجاب اور رہنما پی ٹی آئی سردار لطیف کھوسہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کچہری میں اس وقت لاشیں خون میں لت پت پڑی ہیں، کل اس ایوان میں کالے کوٹ والوں کے بارے میں پرتشدد گفتگو کی گئی۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کی کون سی قوم پرست سیاسی جماعتیں 27ویں آئینی ترمیم کی مخالف ہیں؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کل کی اس اشتعال انگیزی کی وجہ سے آج کچہری میں خودکش حملہ ہوا؟ سردار لطیف کھوسہ نے ایوان میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح بھی کالے کوٹ والے تھے، وزیرِ موصوف نے کل اشتعال انگیز تقریر کی، کیا ان پر مقدمہ ہوگا؟
مزید پڑھیں: بیرسٹر گوہر علی خان نے 27ویں آئینی ترمیم کو ’باكو ترمیم‘ قرار دیدیا
انہوں نے موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ فارم 47 کی پیداوار حکومت عوام کی نمائندہ نہیں ہے، کیا یہ حکومت آئین میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہے؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئین میں ترمیم آئینی ترمیم لطیف کھوسہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لطیف کھوسہ لطیف کھوسہ
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔