بدعنوانی اور ووٹ چوری نے جمہوریت کو کمزور کیا ہے، پرینکا گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
کانگریس کی جنرل سکریٹری نے بی جے پی لیڈروں پر پنڈت جواہر لال نہرو کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی ہر غلطی کا الزام نہرو پر ڈال دیتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بہار ریاست کے مغربی چمپارن کے والمیکی نگر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کی این ڈی اے حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کی حالت ایسی ہوگئی ہے جیسے برطانوی راج کے زمانے میں تھی۔ ان کے مطابق این ڈی اے بہار میں "ووٹ چوری" کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ یہ وہی زمین ہے جہاں سے مہاتما گاندھی نے آزادی کی تحریک کا آغاز کیا تھا لیکن آج ملک ایک بار پھر اسی سمت جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ڈی اے حکومت نے بہار کے تقریباً 65 لاکھ ووٹروں کے نام، جن میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہیں، ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہار میں بے روزگاری اور نقل مکانی اپنی انتہا پر ہے، نوجوان روزگار کی تلاش میں دوسرے صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، کسانوں کو بڑھتی لاگت اور ٹیکس کے باعث مناسب آمدنی حاصل نہیں ہو رہی۔ پرینکا گاندھی نے مرکز پر الزام لگایا کہ اس نے ملک کے سرکاری اداروں کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کے بقول تمام بڑی فیکٹریاں، صنعتیں اور بندرگاہیں وزیراعظم نریندر مودی کے دو دوستوں کے حوالے کر دی گئی ہیں، حتیٰ کہ بہار کی فیکٹریوں اور ٹھیکوں کو بھی گجرات منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجر اور کاروباری بھی اس دباؤ میں صحیح طور پر کام نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے وزیر اعظم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کو بدعنوانی، جرائم پر قابو پانے اور نوجوانوں کی تعلیم کی فکر ہونی چاہیئے، مگر وہ اس بات سے زیادہ فکرمند ہیں کہ کانگریس کے پوسٹر پر تیجسوی یادو کی تصویر کیوں نہیں ہے، جبکہ وہ خود نتیش کمار کو اپنے ساتھ اسٹیج پر نہیں رکھتے۔
پرینکا گاندھی نے بی جے پی لیڈروں پر پنڈت جواہر لال نہرو کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی ہر غلطی کا الزام نہرو پر ڈال دیتے ہیں۔ خواتین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھاجپا والے آپ کو الیکشن سے پہلے پیسہ دیں گے، لے لیجئے، مگر یاد رکھیے، وہ الیکشن کے بعد وہ پیسہ نہیں ملے گا۔ جنہوں نے ملک کی زمین اور وسائل کارپوریٹ گھرانوں کو بیچ دیے، وہ کبھی غریبوں کے لئے نہیں سوچیں گے۔ پرینکا گاندھی نے نوجوانوں کی حالت زار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک سے بہار کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر کانگریس کی حکومت بنی تو سخت کارروائی کی جائے گی اور ایک منظم روزگار کیلنڈر نافذ کیا جائے گا تاکہ ہر غریب خاندان کے ایک فرد کو سرکاری نوکری مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پرینکا گاندھی نے انہوں نے کہا کہ ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے کا الزام
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔