کانگریس کی جنرل سکریٹری نے بی جے پی لیڈروں پر پنڈت جواہر لال نہرو کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی ہر غلطی کا الزام نہرو پر ڈال دیتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بہار ریاست کے مغربی چمپارن کے والمیکی نگر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرکز کی این ڈی اے حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندوستان کی حالت ایسی ہوگئی ہے جیسے برطانوی راج کے زمانے میں تھی۔ ان کے مطابق این ڈی اے بہار میں "ووٹ چوری" کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ یہ وہی زمین ہے جہاں سے مہاتما گاندھی نے آزادی کی تحریک کا آغاز کیا تھا لیکن آج ملک ایک بار پھر اسی سمت جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ این ڈی اے حکومت نے بہار کے تقریباً 65 لاکھ ووٹروں کے نام، جن میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہیں، ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بہار میں بے روزگاری اور نقل مکانی اپنی انتہا پر ہے، نوجوان روزگار کی تلاش میں دوسرے صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، کسانوں کو بڑھتی لاگت اور ٹیکس کے باعث مناسب آمدنی حاصل نہیں ہو رہی۔ پرینکا گاندھی نے مرکز پر الزام لگایا کہ اس نے ملک کے سرکاری اداروں کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کے بقول تمام بڑی فیکٹریاں، صنعتیں اور بندرگاہیں وزیراعظم نریندر مودی کے دو دوستوں کے حوالے کر دی گئی ہیں، حتیٰ کہ بہار کی فیکٹریوں اور ٹھیکوں کو بھی گجرات منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجر اور کاروباری بھی اس دباؤ میں صحیح طور پر کام نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے وزیر اعظم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کو بدعنوانی، جرائم پر قابو پانے اور نوجوانوں کی تعلیم کی فکر ہونی چاہیئے، مگر وہ اس بات سے زیادہ فکرمند ہیں کہ کانگریس کے پوسٹر پر تیجسوی یادو کی تصویر کیوں نہیں ہے، جبکہ وہ خود نتیش کمار کو اپنے ساتھ اسٹیج پر نہیں رکھتے۔

پرینکا گاندھی نے بی جے پی لیڈروں پر پنڈت جواہر لال نہرو کی توہین کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی ہر غلطی کا الزام نہرو پر ڈال دیتے ہیں۔ خواتین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھاجپا والے آپ کو الیکشن سے پہلے پیسہ دیں گے، لے لیجئے، مگر یاد رکھیے، وہ الیکشن کے بعد وہ پیسہ نہیں ملے گا۔ جنہوں نے ملک کی زمین اور وسائل کارپوریٹ گھرانوں کو بیچ دیے، وہ کبھی غریبوں کے لئے نہیں سوچیں گے۔ پرینکا گاندھی نے نوجوانوں کی حالت زار پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک سے بہار کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر کانگریس کی حکومت بنی تو سخت کارروائی کی جائے گی اور ایک منظم روزگار کیلنڈر نافذ کیا جائے گا تاکہ ہر غریب خاندان کے ایک فرد کو سرکاری نوکری مل سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پرینکا گاندھی نے انہوں نے کہا کہ ہوئے کہا کہ کرتے ہوئے کا الزام

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار