نریندر مودی نے ووٹ چوری کرکے جنگل راج نافذ کردیا ہے، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
رکن پارلیمنٹ نے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے "عظیم اتحاد" کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیل کی اور وعدہ کیا کہ ریاست کی ترقی کیلئے ہر ضروری قدم اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ مہاراشٹر، ہریانہ، چھتیس گڑھ کی حکومت چوری کرنے کے بعد اب بہار کی حکومت چوری کرنا چاہتے ہیں۔ بہار کے وزیر گنج اسمبلی حلقہ میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب میں راہل گاندھی نے نہ صرف بی جے پی کو بہار کے خراب حالات کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا، بلکہ ریاستی وزیراعلٰی نتیش کمار کا کنٹرول بھی بی جے پی کے ہاتھوں میں ہونے کا دعویٰ کیا۔ راہل گاندھی نے انتخابی جلسہ میں موجود لوگوں کے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے "عظیم اتحاد" کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیل کی اور وعدہ کیا کہ ریاست کی ترقی کے لئے ہر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔ انہوں بہار اسمبلی انتخاب میں کامیابی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں عظیم اتحاد کی حکومت بننے جا رہی ہے، عظیم اتحاد کی یہ حکومت ہر طبقہ، ہر ذات اور ہر مذہب کی حکومت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس حکومت میں خاتون، کسان، مزدور، نوجوان سمیت پورے بہار کی آواز شامل ہوگی۔ ووٹ کی اہمیت ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی لوگوں سے اپنے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کی گزارش کی۔ انہوں نے کہا کہ بھیم راؤ امبیڈکر نے ملک کو آئین دیا، جس میں ہر شخص کو ایک ووٹ کا حق دیا گیا لیکن نریندر مودی اور امت شاہ الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر "ووٹ چوری" کر رہے ہیں، جو کہ آئین پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہار میں بھی ووٹ چوری کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن ہمیں انہیں ایسا کرنے سے روکنا ہے، ہمیں مضبوطی کے ساتھ ڈٹے رہنا ہے اور آئین کی حفاظت کرنی ہے۔
اس سے قبل راہل گاندھی نے کٹمبا اسمبلی حلقہ میں بھی انتخابی جلسہ کو خطاب کیا۔ کٹمبا میں راہل گاندھی نے کہا کہ بہار کے لوگ پورے ملک میں مزدوری کر رہے ہیں۔ ملک کے الگ الگ حصوں میں بہار کے لوگ بڑی بڑی عمارتیں، سڑکیں، ٹنل، فیکٹریاں بناتے ہیں۔ یعنی سچائی یہ ہے کہ نتیش کمار نے یہاں سے روزگار مٹا کر بہار کے لوگوں کو ملک کا مزدور بنا دیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نتیش کمار کا ریموٹ نریندر مودی اور امت شاہ کے پاس ہے، جس طرح ریموٹ سے ٹی وی کا چینل بدلا جاتا ہے، ویسے ہی نریندر مودی-امت شاہ نتیش جی کا چینل بدلتے ہیں۔
اس انتخابی جلسہ میں راہل گاندھی نے نچلی ذات کو منصوبہ بند طریقے سے پسماندہ بنانے کا الزام بھی برسر اقتدار طبقہ پر عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ ملک میں 500 سب سے بڑی کمپنیوں کی لسٹ نکالیں گے، تو آپ کو اس میں پسماندہ، انتہائی پسماندہ، دلت، مہادلت، قبائلی طبقہ کے لوگ نہیں ملیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کمپنیوں میں کام کرنے والے لوگ 10 فیصد کی آبادی میں سے آتے ہیں۔ عدلیہ ہو یا بیوروکریسی، ہر جگہ ان کو ہی جگہ ملتی ہے، اگر ہم ملک کے 90 فیصد لوگوں کو ملک کی ترقی میں شامل نہیں کریں گے تو ایک ایسا ہندوستان بنے گا جہاں پوری دولت 3-2 لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے عظیم اتحاد کرتے ہوئے کی حکومت چوری کر بہار کے کے لوگ
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔